واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

چودہواں روزہ: وقت

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج چودہواں روزہ ہے۔ آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہونے کو ہے، لیکن اس چاند کی بڑھتی ہوئی روشنی میرے دل کو لرزا رہی ہے۔ یہ بڑھتا ہوا نور مجھے خاموشی سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ رمضان کا آدھا مہینہ بیت چکا ہے۔ مالک! وقت کتنی تیزی سے ریت کی طرح میری انگلیوں کے درمیانی مساموں سے پھسل رہا ہے اور میں اب بھی وہیں کھڑا ہوں؛ تہی دامن، خالی ہاتھ اور محروم!
میرے اللہ!
کتنی حسرت اور ندامت ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ جب اس ماہِ مبارک کا ہلال طلوع ہوا تھا، تو میں نے کتنے بلند بانگ ارادے کیے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ میں قرآن سے اپنی دوستی استوار کروں گا، سحر کی تنہائیوں میں آپ کے سامنے گریہ و زاری کروں گا اور اپنی فرسودہ عادتوں کو بدل ڈالوں گا۔ لیکن ہائے یہ دنیا! اس کی عارضی رنگینیوں اور لایعنی مصروفیتوں نے مجھے پھر سے اپنے حصار میں لے لیا۔ میں سحر و افطار کے دسترخوان سجانے میں تو مگن رہا، مگر اس "حقیقی ضیافت" کی تیاری نہ کر سکا جس کا وعدہ آپ نے اپنے نیک بندوں سے کیا ہے۔
میرے پیارے رب!
وقت تو آپ کی عطا کردہ وہ بیش بہا پونجی ہے جسے میں نے نہایت بے دردی سے لٹایا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم وقت کو "گزارتے" نہیں ہیں مالک، بلکہ وقت ہمیں گزار رہا ہے اور ہمیں خبر بھی نہیں کہ ہم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنی آخری منزل (موت) کے کتنے قریب پہنچ چکے ہیں۔ چودہویں رات کا یہ ماہِ کامل مجھے پکار رہا ہے کہ مہلت ختم ہونے کو ہے، اے غفلت کی نیند سونے والے! اب بھی جاگ جا۔
اے میرے رحیم اللہ!
جو وقت ضائع ہو گیا، میں اس پر سراپا احتجاج اور نادم ہوں، مگر جو ساعتیں باقی ہیں، ان کی خیر مانگتا ہوں۔ مجھے وقت کی حرمت پہچاننے والا بنا دے۔ میری کاہلی کو تڑپ میں بدل دے۔ مجھے ان بدنصیبوں میں شامل نہ کرنا جو عید کے دن مسرتیں تو منائیں گے، مگر جن کا دامن رمضان کی اصل برکتوں سے خالی ہوگا۔
میرے مولا! میرے وقت میں برکت ڈال دے۔ مجھے وہ لمحات عطا کر دے جن میں، میں سراسر آپ کا ہو جاؤں اور کائنات کی ہر شے میری نظر میں ہیچ ہو جائے۔ ابھی توبہ کا در وا ہے، ابھی مغفرت کی گھڑیاں باقی ہیں۔ میرے رب! مجھے تھام لیجیے، اس سے پہلے کہ مہلتِ عمل کا سورج غروب ہو جائے۔
فقط،
آپ کا وہ خطا کار بندہ، جو وقت کی قدر سیکھنا چاہتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے