مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج اٹھائیسواں روزہ ہے۔ مسجدوں کے مناروں سے الوداعی کلام کی پردرد صدائیں گونج رہی ہیں اور میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔ ابھی کل ہی کی تو بات لگتی ہے جب ہم نے پہلے روزے کی نیت کی تھی، اور آج یہ برکتوں والا مہینہ اپنا رختِ سفر باندھ رہا ہے۔ مالک! مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی بہت ہی مہربان اور شفیق دوست، جو مجھے گرنے سے بچانے اور سنبھالنے آیا تھا، اب مجھے تنہا چھوڑ کر رخصت ہو رہا ہے۔
میرے اللہ!
یہ مہینہ کتنا عجیب اور پیارا تھا! اس نے مجھے باطنی نظم و ضبط سکھایا، اس نے مجھے بھوکوں کی پیاس اور کرب کا احساس دلایا، اس نے مجھے سحر کی خاموشیوں میں آپ کے سامنے کھڑا ہونا سکھایا۔ اس ماہِ مبارک کی برکت سے میرے گھر کے در و دیوار پر ایک نور طاری تھا، میری گفتگو میں ایک حلاوت اور نرمی تھی اور میری خلوتوں میں آپ کا قرب تھا۔ اب جب یہ مہمان جا رہا ہے، تو مجھے خوف لاحق ہے کہ میں پھر سے دنیا کے بے رحم ہنگاموں اور جھمیلوں میں کھو نہ جاؤں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ سرکش شیطان، جسے آپ نے ان مبارک دنوں میں قید کر رکھا تھا، اب پھر سے مجھ پر حملہ آور ہوگا اور مجھے آپ کی یاد سے دور لے جائے گا۔
میرے پیارے رب!
کیا میں نے اس معزز مہمان کی ویسی قدر کی جیسا اس کا حق تھا؟ کیا میں نے اسے وہ تکریم دی جو اسے ملنی چاہیے تھی؟ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے بہت سی کوتاہیاں ہوئیں۔ میں روزے کی حالت میں بھی غافل رہا، میں اعتکاف کی اصل روح کو نہ پا سکا، میں تلاوتِ کلامِ پاک میں بھی سستی کر گیا۔ لیکن مالک! میری ان تمام تر لغزشوں اور اس ٹوٹے پھوٹے سفر کے باوجود، مجھے اس مہینے سے بے پناہ محبت ہو گئی تھی۔ مجھے اس کی سحر اور اس کی افطار سے، اس کی تراویح اور اس کی طاق راتوں کی نورانیت سے عشق ہو گیا تھا۔
اے میرے کریم اللہ!
رمضان تو جا رہا ہے، لیکن آپ کی رحمت تو کہیں نہیں جا رہی۔ آپ تو ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔ اس مہینے کے بچھڑنے کا دکھ اپنی جگہ، مگر میرے بے قرار دل کو یہ اطمینان عطا فرما دے کہ نیکی کے جو بیج اس رمضان میں میرے دل کی زمین میں بوئے گئے ہیں، وہ سارا سال ہریالی اور ثمر دیتے رہیں گے۔ میری آنکھوں کی یہ نمی اور میرے دل کی یہ رقت، رمضان کے بعد بھی میرے ساتھ رہنے دینا۔
میرے مولا!
اس رمضان کو میری زندگی کا آخری رمضان نہ بنانا۔ مجھے بار بار یہ ماہِ صیام دیکھنا نصیب فرمانا، اور اب جب یہ رخصت ہو رہا ہے، تو اس کی جھولی میں میری مغفرت اور بخشش کا پروانہ رکھ کر اسے رخصت کرنا۔
فقط،
آپ کا وہ اداس بندہ، جو رمضان کو الوداع کہتے ہوئے تڑپ رہا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں