واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

اکیسواں روزہ: جستجو

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...
مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج اکیسواں روزہ ہے اور جہنم سے نجات کے آخری عشرے کا آغاز ہو چکا ہے۔ فضاؤں میں ایک عجیب سا سکون اور پرنور سی برکت محسوس ہو رہی ہے۔ آج سے میں اس "جستجو" کے روحانی سفر پر نکل رہا ہوں جس کی منزل اور انعام "لیلة القدر" ہے۔ میرے مالک! میں اس ایک مبارک رات کی تلاش میں ہوں جس کی ایک ساعت میرے برسوں کے گناہوں کا کفارہ بن جائے، اور جس کا ایک سجدہ میری پوری زندگی کا کل حاصل بن جائے۔
میرے اللہ!
میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ آپ نے مجھے اس آخری عشرے تک پہنچنے کی مہلت دے دی۔ کتنے ہی عزیز ایسے تھے جو پچھلے سال ان ساعتوں میں ہمارے ساتھ تھے مگر آج وہ منوں مٹی تلے سو رہے ہیں۔ آپ نے مجھے مہلتِ عمل دی، مجھے مزید سانسیں عطا کیں، اور اب آپ نے مجھے وہ طاق راتیں بخشی ہیں جن میں تقدیریں لکھی اور بدلی جاتی ہیں۔ لیکن مالک! میرا خوف یہ ہے کہ کہیں میں ان انمول راتوں کو بھی عام راتوں کی طرح غفلت کی نیند میں نہ گزار دوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بازاروں کی مصنوعی رونقوں اور عید کی تیاریوں میں الجھ کر "خالقِ عید" کو ہی فراموش کر بیٹھوں۔
میرے پیارے رب!
آج سے میں نے دنیا کی مصروفیات کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کر لیے ہیں۔ میں اس آخری عشرے میں آپ کی چوکھٹ پر اعتکاف کی نیت کرنا چاہتا ہوں، چاہے میں مسجد کے کسی گوشے میں بیٹھوں یا اپنے گھر کے مصلّے پر، میرا دل ہر حال میں آپ کی یاد کا معتکف ہونا چاہیے۔ مجھے وہ تڑپ عطا کر دے کہ میری آنکھیں نیند کے خمار کے لیے نہیں، بلکہ آپ کی رحمت کی دید کے لیے ترسیں۔ مجھے ان خوش نصیبوں میں شامل کر لیجیے جو ان راتوں میں جاگتے ہیں تاکہ ان کا مقدر جاگ جائے۔
اے میرے مہربان اللہ!
میں نہیں جانتا کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر رات کون سی ہے، لیکن میرا ایمان ہے کہ آپ تو ہر رات اپنی رحمت کے ساتھ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں۔ مجھے اس رات کی قدر و منزلت پہچاننے والی بیدار روح عطا فرما۔ میری کاہلی اور سستیوں کو اپنی محبت کی تپش سے پگھلا دے۔ مجھے گریہ و زاری کا وہ سجدہ عطا کر دے جس کے بعد دل میں کوئی اور دنیاوی تمنا باقی نہ رہے۔
میرے مولا!
اس آخری عشرے کی برکت سے مجھے دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے کامل نجات دے دے اور اپنی قربت کی جنت میں داخل فرما لے۔ میری اس ادھوری جستجو کو اپنی قبولیت کے رنگ سے رنگ دے۔
فقط،
آپ کا وہ عاجز بندہ، جو ایک عمر سے آپ کی رضا کی تلاش میں ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے