واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

بائیسواں روزہ: دعا

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!

میرے مالک!

آج بائیسواں روزہ ہے۔ نجات کے آخری عشرے کی مبارک گھڑیاں تیزی سے رخصت ہو رہی ہیں اور میرے پاس دعاؤں اور التجاؤں کی ایک طویل فہرست ہے، بالکل اس نادان بچے کی طرح جو اپنی پسند کی ہر شے کے لیے ضد کرتا ہے۔ آج میں آپ کے حضور اپنی ان "ادھوری خواہشوں" کا اعتراف کرنے آیا ہوں جن کے پورا نہ ہونے پر میں بسا اوقات رنجیدہ ہو جاتا ہوں، اور نادانی میں شکوہ بھی کر بیٹھتا ہوں۔

میرے اللہ!

میں کتنا کم فہم ہوں، میری نگاہ صرف اس پر ہوتی ہے جو مجھے "مطلوب" ہے، لیکن آپ کی نظرِ کامل اس پر ہوتی ہے جس میں میرے لیے "خیر" ہے۔ میں نے کتنی ہی بار ان چیزوں کے لیے رو رو کر اور گڑگڑا کر دعائیں مانگیں جو اگر مجھے مل جاتیں، تو شاید میری دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب بن جاتیں۔ میں اپنی محدود عقل کے پیمانے سے آپ کی لامتناہی حکمتوں کو ناپنے کی جسارت کرتا ہوں۔ میں یہ بنیادی حقیقت بھول جاتا ہوں کہ آپ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ شفیق ہیں، اور کوئی ماں اپنے بچے کے ہاتھ میں وہ کھلونا نہیں دیتی جس سے اس کا اپنا ہی ہاتھ کٹ جانے کا اندیشہ ہو۔

میرے پیارے رب!

آج میں آپ سے کچھ نیا "مانگنے" نہیں، بلکہ اس بات کا سچے دل سے "شکر" ادا کرنے آیا ہوں کہ آپ نے میری وہ تمام دعائیں قبول نہیں کیں جو میرے حق میں بہتر نہیں تھیں۔ آپ کا بندے کو "نہ دینا" بھی تو آپ کی عطا اور رحمت ہی کا ایک روپ ہے۔ مجھے وہ قلبِ سلیم عطا کر دے جو آپ کی "نا" پر بھی اتنا ہی مطمئن اور شاکر ہو، جتنا آپ کی "ہاں" پر ہوتا ہے۔ مجھے اپنی رضا میں کامل راضی رہنا سکھا دیجیے۔

اے میرے خالق و مالک!

آج اس مکتوب کے ذریعے میں اپنی تمام تر خواہشیں، اپنے سارے خواب اور اپنے تمام موہوم اندیشے آپ کی بارگاہ میں سپرد کرتا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ ان طاق راتوں میں تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں، تو میرے مقدر میں وہ لکھ دیجیے جو میرے ایمان اور آخرت کے لیے بہتر ہو۔ مجھے وہ مت عطا کیجیے جو میں چاہتا ہوں، بلکہ وہ دیجیے جو آپ میرے حق میں بہتر چاہتے ہیں۔ مجھے اپنی محبت اور بندگی کا وہ اعلیٰ مقام عطا کر دیجیے جہاں میری اپنی کوئی خواہش باقی نہ رہے، بس آپ کی مرضی ہی میری آرزو بن جائے۔

میرے مولا!

میری زبان پر اپنی پسند کی دعائیں جاری کر دیجیے اور میرے بے قرار دل کو اپنے فیصلوں پر اطمینانِ کامل عطا فرما۔

فقط،

آپ کا وہ عاجز بندہ، جو اب آپ کے ہر فیصلے پر دل سے راضی ہے۔

خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے