واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

سولہواں روزہ: بدگمانی

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...
مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج سولہواں روزہ ہے۔ میں نے ہمیشہ یہی سنا اور پڑھا کہ مخلوق کے ساتھ بدگمانی گناہِ عظیم ہے، لیکن آج مجھے شدت سے احساس ہوا کہ سب سے بڑی اور ہولناک بدگمانی تو میں نے آپ کی ذات اور آپ کی رحمت کے ساتھ کی ہے۔ میرے مالک! جب بھی مجھ سے کوئی بڑی خطا سرزد ہوئی، میرے دل میں مایوسی کا یہ وسوسہ ابھرا کہ "اب اللہ تجھے کبھی معاف نہیں کرے گا"، "تو گناہوں کی وادی میں بہت دور نکل آیا ہے"، اور "اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا"۔ مالک! یہ میرا آپ کی ذات کے بارے میں کتنا برا اور ظالمانہ گمان تھا۔
میرے اللہ!
میں کتنا نادان ہوں کہ میں نے اپنے محدود گناہوں کو آپ کی لامحدود رحمت سے بڑا سمجھ لیا۔ میں نے اپنی خطاؤں کی سیاہی تو دیکھی، لیکن آپ کے "غفور الرحیم" ہونے کی وسعت کو یکسر فراموش کر دیا۔ میری یہ ہچکچاہٹ کہ "نجانے میری دعا قبول ہوگی یا نہیں"، دراصل آپ کی قدرت اور عطا پر میرا شک تھا۔ میں نے آپ کے حضور ہاتھ پھیلانے میں اس لیے دیر کی کیونکہ مجھے لگا کہ میں اس قابل ہی نہیں، حالانکہ آپ تو پکارنے والے کی قابلیت نہیں، صرف اس کے دل کی تڑپ اور پکار دیکھتے ہیں۔
میرے پیارے رب!
آج اس مکتوب کے ذریعے میں اپنی اس بدترین بدگمانی سے سچے دل سے توبہ کرتا ہوں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ اگر میرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں، تو آپ کی معافی کا ایک قطرہ انہیں مٹانے کے لیے کافی ہے۔ اب میں ڈرتے ڈرتے نہیں، بلکہ پورے مان اور کامل یقین کے ساتھ آپ کی چوکھٹ پر آیا ہوں۔ میں جان گیا ہوں کہ آپ تو وہ رحیم ذات ہیں جو بندے کے گناہ کرنے سے زیادہ اس کے پلٹ آنے اور توبہ کرنے پر خوش ہوتی ہے۔
اے میرے مہربان اللہ!
میرے دل سے یہ بے جا خوف نکال دیجیے کہ میں رد کر دیا جاؤں گا۔ مجھے وہ یقینِ کامل عطا کر دیجیے کہ جب میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤں، تو میرا دل گواہی دے کہ میرا رب مجھے کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹائے گا۔ میری اس بدگمانی کو اپنے غلافِ رحمت سے "حسنِ ظن" میں بدل دیجیے۔ مجھے یہ سمجھا دیجیے کہ آپ کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، بس بندے کے پلٹ کر دیکھنے کی دیر ہوتی ہے۔
میرے مولا! آج سے میرا پختہ گمان یہی ہے کہ آپ میرے ہیں، اور آپ مجھے کبھی اپنی رحمت سے محروم اور تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
فقط،
آپ کا وہ بندہ، جو اب آپ کی رحمت پر کامل بھروسہ رکھتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے