واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

پندرہواں روزہ: بوجھ

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج پندرہواں روزہ ہے۔ آدھا سفر تمام ہوا اور آج میں بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ یہ تھکن جسم کی نہیں ہے مالک، یہ تھکن تو اس بوجھ کی ہے جو میں برسوں سے اپنی روح پر لادے پھر رہا ہوں۔ گناہوں کا بوجھ، ادھوری توبہ کا بوجھ، اور ان وعدوں کا بوجھ جو میں نے بارہا تجھ سے کیے اور پھر توڑ دیے۔
میرے اللہ!
کبھی کبھی گناہوں کا وزن اتنا بڑھ جاتا ہے کہ سجدے میں سر رکھنا بھی بھاری محسوس ہوتا ہے۔ جب میں مصلّے پر کھڑا ہوتا ہوں، تو میری پیٹھ ان خطاؤں کے بوجھ سے جھکی ہوتی ہے جو میں نے تنہائیوں میں کی تھیں۔ میں دنیا کے سامنے تو بہت اکڑ کر چلتا ہوں، لیکن تیرے سامنے آتے ہی میری ہمت جواب دے جاتی ہے۔ میں کتنا نادان ہوں کہ میں نے اس عارضی دنیا کی لذتوں کے بدلے اپنی روح کا سکون بیچ دیا اور اب یہ بوجھ مجھے جینے نہیں دیتا۔
میرے پیارے رب!
آپ تو "العفو" ہیں، معاف کرنا آپ کو پسند ہے۔ سنا ہے کہ رمضان کا یہ دوسرا عشرہ بوجھ ہلکا کرنے کا عشرہ ہے۔ آج میں اپنی تمام خطاؤں کی یہ بھاری گٹھڑی آپ کے قدموں میں رکھتا ہوں۔ میں تھک گیا ہوں مالک، خود کو دھوکہ دیتے دیتے، اپنے گناہوں پر پردے ڈالتے ڈالتے۔ مجھے اس بوجھ سے نجات دے دے۔ میری روح کو ویسا ہی ہلکا پھلکا اور پاکیزہ کر دے جیسا وہ میرے پیدا ہونے کے دن تھی۔
اے میرے مہربان اللہ!
کیا میری پکار آپ تک پہنچ رہی ہے؟ کیا میرے یہ آنسو میرے گناہوں کے وزن کو کم کر سکیں گے؟ مجھے وہ سکون عطا کر دے جو تب ملتا ہے جب بندہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو گیا ہے۔ میری تھکن کو اپنی قربت کی ٹھنڈک سے دور کر دے۔ مجھے گناہوں کی غلامی سے نکال کر اپنی بندگی کی آزادی عطا کر۔
آج کی رات، میں صرف ایک سوالی بن کر آیا ہوں۔ میرے اس بوجھ کو اپنے کرم سے ہٹا دے تاکہ میں بقیہ سفر تیزی سے تیری طرف طے کر سکوں۔
فقط،
آپ کا وہ تھکا ہوا بندہ، جو آپ کے کرم کا سہارا چاہتا ہے۔

خالد سیف اللہ موتیہاری 

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے