مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج تیسواں روزہ مکمل ہو چکا ہے۔ افطار کے بعد آسمان پر باریک سا ہلالِ عید نمودار ہو چکا ہے اور مسجدوں سے تکبیرات کی روح پرور صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ مالک! آج میں الوداع نہیں کہوں گا، کیونکہ الوداع تو ان سے کہا جاتا ہے جو دور جا رہے ہوں۔ آپ تو میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ آج مغرب کے بعد تو میں آپ کا سچے دل سے "شکریہ" ادا کرنے آیا ہوں کہ آپ نے مجھے مسلسل تیس روزوں کی ہمت دی، مجھے سجدوں کی توفیق بخشی، اور مجھے اس قابل سمجھا کہ میں ان تیس دنوں تک آپ سے محوِ گفتگو رہ سکا۔
میرے اللہ!
عام لوگوں کے لیے عید کا مطلب محض دنیاوی خوشیاں اور جشن ہے، لیکن میرے لیے عید کی سب سے بڑی خوشی اور فکر یہ ہے کہ کیا آپ نے میری ان ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو قبول کر لیا؟ کیا میرے ان تیس مکتوبات کی پکار آپ کی بارگاہ تک پہنچی؟ مالک! عید کی یہ چاند رات میرے لیے ایک نئے عہد اور نئی زندگی کی نوید ہے۔ میں نے ان تیس دنوں کی خلوت میں جو تھوڑا بہت سکون پایا ہے، میں اسے کل عید کے ہنگاموں میں کھونا نہیں چاہتا۔ میں نے جو سچی توبہ کی ہے، میں اسے عید کے نئے جوڑوں کی چمک میں دھندلانا نہیں چاہتا۔
میرے پیارے رب!
آج مغرب کی نماز میں جب میں نے اس آخری روزے کے بعد سجدے سے سر اٹھایا، تو میری یہی دعا تھی کہ میرا ہاتھ آپ کے دامنِ رحمت سے مضبوطی سے بندھا رہے۔ مجھے وہ استقامت عطا فرمائیے گا کہ شوال کا چاند دیکھنے کے بعد بھی میں اپنی نمازیں نہ بھولوں، میں غریبوں کا درد نہ بھولوں، اور میں اس پرسکون "خاموشی" کو نہ بھولوں جو مجھے آپ کے بے حد قریب لاتی تھی۔ عید کی حقیقی خوشی تو ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں آپ نے جہنم کی آگ سے نجات عطا فرما دی، مالک! مجھے بھی ان خوش نصیبوں کی صف میں شامل فرما لیجیے گا۔
اے میرے ابدی ہمدم!
یہ ماہِ رمضان تو ختم ہو گیا، لیکن میرا اور آپ کا ساتھ تو ابھی پوری طرح شروع ہوا ہے۔ ان تیس خطوط میں، میں نے اپنے باطن کا ہر راز، ہر دکھ اور ہر موہوم امید آپ کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ آپ نے مجھے سنا، آپ نے مجھے گرنے سے تھاما، اور آپ نے مجھے حوصلہ دیا۔ اب جب میں کل صبح عید کی نماز کے لیے نکلوں گا، تو میرے چہرے پر وہ نور اور طمانیت رکھنا جو صرف آپ کی بندگی سے ملتا ہے۔
میرے مولا!
میں اپنی یہ تیس دن کی کل کمائی آپ کے سپرد کرتا ہوں، اپنے فضل سے اس کی حفاظت فرمانا۔ مجھے اگلے رمضان تک زندگی دینا، صحت عطا کرنا، اور اپنے دل میں آپ کی محبت کا یہی جذبہ ہمیشہ قائم رکھنا۔
فقط
آپ کا وہ بندہ، جو اب ہمیشہ کے لیے آپ کا ہو چکا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں