واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

اٹھارہواں روزہ: حسد

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج اٹھارہواں روزہ ہے۔ مغفرت کے دوسرے عشرے کی یہ مبارک گھڑیاں اب رخصت ہونے کو ہیں، اور میں آج آپ کے حضور ایک ایسے باطنی روگ کا اعتراف کرنے آیا ہوں جو میرے سینے میں کسی زہریلے سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ میرے رب! وہ مہلک مرض "حسد" ہے۔ مالک! میں کتنا کم ظرف اور تنگ دل ہوں کہ جب میں دوسروں کو ملنے والی آپ کی نعمتوں کو دیکھتا ہوں، تو میرے دل میں ان کی خوشی کے بجائے ایک عجیب سی کڑھن اور جلن پیدا ہوتی ہے۔
میرے اللہ!
سچ تو یہ ہے کہ یہ حسد دراصل مخلوق سے نہیں، بلکہ خالق (آپ) سے شکوہ ہے کہ "آپ نے اسے کیوں نوازا اور مجھے کیوں محروم رکھا؟"۔ میں کتنا نادان اور گستاخ ہوں کہ کائنات کی تقسیم کرنے والے کے حتمی فیصلے پر معترض ہو رہا ہوں۔ میں یہ بنیادی بات بھول جاتا ہوں کہ جسے آپ نے نوازا ہے، وہ بھی آپ ہی کا بندہ ہے اور جس حال میں میں ہوں، وہ بھی آپ ہی کی حکمت اور فیصلہ ہے۔ حسد کی یہ اندھی آگ دوسروں کا تو بال بیکا نہیں کر پاتی، مگر میرے اپنے باطن کے سکون کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ میں دوسروں کی لکیر مٹانے اور چھوٹی کرنے کی فکر میں اپنی لکیر لمبی کرنا ہی بھول گیا ہوں۔
میرے پیارے رب!
آپ کے حبیب ﷺ کا فرمان ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو۔ میں دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر، نفس کو مار کر جو نیکیاں جمع کرتا ہوں، مجھے خوف ہے کہ کہیں میرے اندر کی یہ باطنی جلن ان سب کو پل بھر میں بھسم نہ کر دے۔ مالک! میرے تنگ دل کو اس قدر وسعت عطا کر دے کہ میں دوسروں کی کامرانی میں اپنی خوشی تلاش کر سکوں۔ میرے دل کی تختی پر یہ پختہ یقین نقش کر دے کہ جو رزق اور نعمت میرے نصیب میں ہے، وہ کائنات کی کوئی طاقت مجھ سے چھین نہیں سکتی، اور جو میرے نصیب میں نہیں، اسے پا کر بھی میں کبھی دلی سکون نہیں پا سکتا۔
اے میرے کریم اللہ!
میرے سینے سے کینہ، بغض اور حسد کا یہ ہلاکت خیز زہر نکال دے۔ مجھے "قناعت" کی وہ لازوال دولت عطا کر دے جو ہر حال میں راضی رہنا سکھاتی ہے۔ مجھے دوسروں کے محلات دیکھ کر کڑھنے کے بجائے اپنی چھوٹی سی کٹیا پر آپ کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے۔ میرے دل کو دوسروں کے لیے شر کے بجائے خیر اور سلامتی کا مرکز بنا دے۔
میرے مولا! مجھے ایسا صاف باطن عطا کر کہ جب میں کسی کو آپ کی دی ہوئی نعمتوں سے سرفراز دیکھوں، تو میری زبان سے بے ساختہ "مَا شَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" نکلے، اور میرا دل ان کی نعمتوں میں مزید برکت کے لیے صدقِ دل سے دعا کرے۔
فقط،
آپ کا وہ عاجز بندہ، جو اپنے دل کو حسد کی آگ سے بچانا چاہتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے