واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

چھبیسواں روزہ: خاموشی

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...
مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج چھبیسواں روزہ ہے اور ستائیسویں شب کی پرنور دہلیز پر کھڑا میں، آپ سے اس "خاموشی" کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس وقت پوری کائنات پر طاری ہونے لگی ہے۔ عشاء کی پکار تھم چکی ہے، رات کا سکون چھانے لگا ہے، دنیا کے ہنگامے اور شور آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہے ہیں، لوگ اپنے گھروں میں سمٹ چکے ہیں اور میں اپنے مصلّے پر بیٹھا اس عمیق سکون کو محسوس کر رہا ہوں جو صرف اور صرف آپ کے قریب ہونے سے ملتا ہے۔
میرے اللہ!
دن بھر ہم کتنا بولتے ہیں، لوگوں کو کتنا سمجھاتے ہیں، اپنی صفائیاں پیش کرتے ہیں اور دوسروں کی سنتے ہیں۔ لیکن اس وقت، عبادت کی اس پرسکون گھڑی میں، مجھے زبان سے کچھ بھی کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ آپ تو وہ سب جانتے ہیں جو میرے باطن کے تاریک تہہ خانوں میں چھپا ہے۔ آپ میری ان سسکیوں اور آہوں کو بھی بخوبی سن لیتے ہیں جو حلق تک نہیں پہنچ پاتیں اور دل ہی دل میں گھٹ جاتی ہیں۔ کتنا سکون ہے اس یقین میں کہ آپ کے حضور الفاظ کا محتاج ہو کر کچھ "سمجھانا" نہیں پڑتا، آپ تو بن کہے ہی سب "سمجھ جاتے" ہیں۔
میرے پیارے رب!
آج کی یہ خاموشی مجھے بتا رہی ہے کہ کائنات کی سب سے طاقتور اور پرتاثیر گفتگو وہی ہوتی ہے جو بے آواز ہو۔ جب ندامت سے آنکھ سے گرا ایک آنسو وہ سب کچھ کہہ جاتا ہے جو ہزاروں کتابیں اور طویل تقریریں نہیں کہہ پاتیں۔ مالک! مجھے یہ خاموشی آج بہت پیاری لگ رہی ہے، کیونکہ اس میں مجھے اپنے اندر کی، اپنی روح کی اصل آواز سنائی دے رہی ہے۔ میں نے برسوں سے اپنی اس روح کو دنیا کے شور و غل میں دبا رکھا تھا، لیکن آج وہ مکمل آزادی کے ساتھ آپ سے ہمکلام ہے۔
اے میرے رازدار!
آج کی اس مبارک رات میں، میں نے اپنے تمام دکھ، تمام پریشانیاں اور تمام الجھنیں اس خاموشی کے حوالے کر دی ہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ میرا خاموش رہنا اور آپ کا سن لینا ہی میری تمام مشکلوں کا واحد حل ہے۔ مجھے وہ سکونِ قلب عطا فرما دیجیے جو صرف آپ کے ذکر کی حلاوت سے ملتا ہے۔ مجھے ان خوش نصیب لوگوں کی صف میں شامل کر لیجیے جن کی تنہائیاں آپ کے نور سے منور ہوتی ہیں۔
میرے مولا!
جب دنیا کا شور اور ہنگامہ مجھے پھر سے اپنی لپیٹ میں لینے لگے، تو میرے باطن میں اس خاموشی کا ایک جزیرہ ہمیشہ آباد رکھنا، تاکہ میں جب چاہوں دنیا سے کٹ کر وہاں جاؤں اور آپ سے سرگوشی کر سکوں۔
فقط
آپ کا وہ عاجز بندہ، جو اس خاموشی میں آپ کی قربت محسوس کر رہا ہے۔
 خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے