واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

تئیسواں روزہ: قرآن

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...
مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج تئیسواں روزہ ہے۔ لیلۃ القدر کی طاق راتوں کا مبارک سلسلہ جاری ہے اور فضاؤں میں آپ کے پاک کلام کی خوشبو رچی بسی ہے۔ میرے مالک! آج میں ایک انتہائی دکھ بھرے اور شرمسار اعتراف کے ساتھ آپ کے حضور حاضر ہوا ہوں۔ وہ عظیم کتاب جو آپ نے سراپا ہدایت بنا کر میری رہنمائی کے لیے اتاری تھی، جس کے بارے میں آپ کا ہی فرمان ہے کہ یہ دلوں کے روگ کے لیے "شفا" اور سراسر "رحمت" ہے، ہائے افسوس! کہ میں نے اسی کتاب کو کتنا اجنبی بنا دیا۔
میرے اللہ!
میں کتنا بدنصیب اور تہی دامن ہوں کہ میں نے دنیا کی ہر کتاب کا مطالعہ کیا، میں نے فلسفے کی گتھیاں سلجھائیں، میں نے سائنس کے اسرار پڑھے، میں نے اخبارات و رسائل کے اوراق چھان مارے، لیکن آپ کی لاثانی کتاب کو محض رسمی ثواب کی نیت سے تیزی سے پڑھ کر بند کر دیا۔ میں نے اسے مخملی اور ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر گھر کے سب سے اونچے طاقوں پر تو سجا دیا، مگر اسے اپنے دل کے طاقچے میں کبھی جگہ نہ دی۔ میں نے اس کی تلاوت تو کی، مگر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ کائنات کا مالک مجھ سے کیا کلام کر رہا ہے؟ وہ مجھے کن ہولناک خطرات سے خبردار کر رہا ہے اور کن ابدی خوشخبریوں کی نوید سنا رہا ہے؟
میرے پیارے رب!
قرآن تو ایک زندہ و جاوید معجزہ تھا، اسے تو میرے ظاہر و باطن کو بدل دینا چاہیے تھا، اسے تو میری زندگی کی تاریکیوں میں روشن چراغ بننا تھا، لیکن میری حالت تو اس بدنصیب پیاسے جیسی ہے جو میٹھے پانی کے ابلتے چشمے کے پاس کھڑا ہو اور پھر بھی پیاس کی شدت سے دم توڑ رہا ہو۔ مالک! اس ماہِ مبارک میں جب میں نے آپ کی آیاتِ مقدسہ کو سنا، تو پہلی بار مجھے شدت سے محسوس ہوا کہ یہ تو براہِ راست میرے غافل دل پر دستک دے رہی ہیں۔ جیسے ہر آیت میرا نام لے کر مجھے پکار رہی ہو۔
اے میرے ہادی و رہنما!
مجھے قرآنِ مجید سے سچی اور ابدی انسیت عطا فرما دے۔ مجھے ایسا باطنی شعور دے کہ جب میں اس کی تلاوت کروں تو مجھے محسوس ہو کہ آپ مجھ سے ہمکلام ہیں۔ مجھے محض اس کے ظاہری حروف کی ادائیگی سے آگے بڑھ کر، اس کے اصل پیغام کو سمجھنے اور اس پر صدقِ دل سے عمل کرنے کی توفیق بخش دے۔ میری بے ہنگم زندگی کو قرآن کے خوبصورت سانچے میں ڈھال دے۔ مجھے ان خوش نصیبوں کی صف میں شامل کر لے جو قرآن کو صرف پڑھتے نہیں، بلکہ اسے اوڑھتے اور بچھاتے ہیں۔
میرے مولا!
اس آخری عشرے کی طاق راتوں میں جب آپ کے کلامِ پاک کی تلاوت ہو، تو میرے پتھر جیسے سخت دل کو موم کر دے۔ میری خشک آنکھوں کو ان آیات پر رونے کی وہ حلاوت اور لذت عطا کر جو آپ کے عشق اور آپ کی کبریائی کا پتہ دیتی ہیں۔
فقط
آپ کا وہ اجنبی بندہ، جو اب آپ کے کلام سے آشنا ہونا چاہتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے

Mohd Manzar نے کہا…
بہت ہی خوبصورت ماشاءاللہ