مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج انیسواں روزہ ہے۔ عشرہِ مغفرت اب اپنی تمام تر برکتیں اور رحمتیں سمیٹ کر ہم سے رخصت ہونے کو ہے۔ آج میں آپ کے حضور اپنی اس باطنی کمزوری کا اعتراف کرنے آیا ہوں جس کا امتحان میں نے زندگی کے ہر موڑ پر دیا، مگر اکثر ناکام ہی رہا۔ میرے رب! وہ صفت "صبر" ہے۔ مالک! میں کتنا کمزور اور جلد باز ہوں کہ اپنی ہر دعا کا نتیجہ، ہر مشکل کا حل بس ابھی اور اسی وقت چاہتا ہوں، اور جب آپ کی حکمت کے تحت ذرا سی بھی تاخیر ہوتی ہے، تو میرا کچا دل شکوے شکایتوں سے بھر جاتا ہے۔
میرے اللہ!
روزہ تو مجھے روزانہ صبر کا ایک عملی اور کٹھن سبق دیتا ہے۔ افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ نعمتیں چنی ہوتی ہیں، پیاس سے حلق سوکھ رہا ہوتا ہے اور بھوک بھی شدت سے ستاتی ہے، مگر میں صرف آپ کے ایک حکم (وقتِ افطار) کا منتظر رہتا ہوں۔ میں اپنی ہر شدید ترین چاہت کو آپ کی مرضی کے مکمل تابع کر دیتا ہوں۔ کاش! اے میرے مولا، یہی سبق میں اپنی زندگی کے باقی معاملات میں بھی نافذ کر پاتا۔ کاش! میں زندگی کی الجھنوں میں بھی ویسے ہی آپ کے فیصلوں کا انتظار کرتا، جیسے میں ہر شام افطار کی اذان کا بے تابی سے، مگر مکمل صبر کے ساتھ کرتا ہوں۔
میرے پیارے رب!
صبر کا مطلب محض خاموشی سے حالات کا جبر سہنا تو نہیں، بلکہ صبر کا اصل مفہوم تو یہ ہے کہ جب حالات میرے حق میں نہ ہوں، جب بظاہر دنیا میرا ساتھ چھوڑ دے اور جب دعائیں فوراً قبول ہوتی نظر نہ آئیں، تب بھی میرے دل کا کونا کونا یہ گواہی دے کہ "میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہ میرے حق میں بہترین فیصلہ فرمائے گا"۔ لیکن میں کتنا نادان ہوں کہ میں خاموش یقین کے بجائے واویلا کرنے لگتا ہوں اور اپنی اس بے چینی اور اضطراب سے اپنے ہی اجر کو ضائع کر بیٹھتا ہوں۔
اے میرے صبور و شاکر اللہ!
مجھے "صبرِ جمیل" عطا فرما۔ وہ خوبصورت صبر جس میں مخلوق سے کوئی شکوہ نہ ہو، اور صرف خالق (آپ) سے امید وابستہ ہو۔ مجھے وہ حوصلہ اور استقامت دے کہ میں آزمائشوں کی آندھی میں ٹوٹ کر بکھرنے کے بجائے، آپ کی چوکھٹ پر اور زیادہ جھک جاؤں۔ میرے دل پر یہ حقیقت منکشف کر دے کہ ہر مشکل کے دامن میں ایک آسانی چھپی ہے، اور آپ کی طرف سے آنے والا ہر دکھ دراصل ایک بڑی راحت کا پیش خیمہ ہے۔
میرے مولا!
میری اس بے قرار روح کو اپنے ذکر سے قرار بخش دے۔ مجھے اپنے ان مقرب بندوں میں شامل فرما لیجیے جن کے بارے میں آپ نے خود نوید سنائی: "إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ" (بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔ اور جس کے ساتھ کائنات کا مالک ہو جائے، اسے پھر کسی اور سہارے کی بھلا کیا حاجت؟
فقط،
آپ کا وہ کمزور بندہ، جو آپ کی رضا میں راضی رہنا سیکھ رہا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں