مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج پچیسواں روزہ ہے۔ آخری عشرے کی طاق راتوں کا جلال و جمال اور ان کی نورانی ساعتیں اپنے عروج پر ہیں۔ میرے مالک! میں جب بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں، تو مانگنے کے لیے اتنی حاجتیں ہوتی ہیں کہ الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ لیکن مالک! آج میں ایک بالکل ہی مختلف کیفیت میں ہوں۔ آج میں ان بے شمار چیزوں پر غور کر رہا تھا جو آپ نے مجھے بن مانگے عطا کر دیں، اور ان نعمتوں پر حیران ہوں جو میں مانگنا ہی بھول گیا تھا، مگر آپ کی غیبی رحمت نے انہیں خود بخود میرے دامن میں ڈال دیا۔
میرے اللہ!
میں کس قدر ناشکرا اور کم فہم ہوں کہ میں محض اپنی چند ضدوں اور ادھوری دعاؤں پر کڑھتا رہا، لیکن میں نے ان ہزاروں کرم نوازیوں کو دیکھا ہی نہیں جو ہر پل میری زندگی کو تھامے ہوئے ہیں۔ میں نے کبھی ہاتھ اٹھا کر نہیں مانگا تھا کہ مجھے بینائی کی نعمت عطا کرنا، مگر آپ نے بصارت دی۔ میں نے کبھی یہ التجا نہیں کی تھی کہ حیات کی یہ سانسیں ایک تسلسل کے ساتھ چلتی رہیں، مگر آپ نے انہیں رواں رکھا۔ میں تو یہ بھی مانگنا بھول گیا تھا کہ مجھے ہدایت کے اس مبارک مہینے تک پہنچانا، مگر آپ نے بن مانگے مجھے اپنے در کا مہمان بنا لیا۔
میرے پیارے رب!
سچ تو یہ ہے کہ آپ کی عطا میری محدود طلب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ میں تو محض ایک قطرے کی بھیک مانگتا ہوں، آپ سمندر عطا فرما دیتے ہیں۔ میں اپنی کسی چھوٹی سی دنیاوی ضرورت کا سوال کرتا ہوں، اور آپ میری نسلوں کی عافیت کا فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ میری کوئی دعا اس لیے قبول نہیں فرماتے تاکہ مجھے وہ دے سکیں جو اس سے بدرجہا بہتر ہے، اور مجھ جیسا نادان اسے "محرومی" سمجھ بیٹھتا ہے۔ آپ کا عطا نہ کرنا بھی تو دراصل "قبولیت" ہی کا ایک پوشیدہ روپ ہے، جس کی حکمت کا ادراک مجھے وقت کی گرد چھٹنے کے بعد ہوتا ہے۔
اے میرے مہربان اللہ!
آج میں آپ کے حضور یہ التجا کرتا ہوں کہ مجھے "قلبِ شاکر" (شکر گزار دل) عطا فرما دے۔ مجھے ان انمول نعمتوں کی قدر سکھا دے جو مجھے بغیر کسی مشقت اور سوال کے مل گئی ہیں۔ مجھے وہ عطا فرما جو آپ کو میرے لیے پسند ہے، چاہے میری غافل زبان اس کا تقاضا کرنا بھول ہی کیوں نہ گئی ہو۔ میرے مقدر میں وہ بھلائیاں اور کامیابیاں لکھ دے جن کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
میرے مولا!
میری سب سے بڑی اور حتمی دعا تو اب یہی ہے کہ آپ مجھے اپنی خالص محبت عطا کر دیجیے، کیونکہ جسے آپ مل گئے، اسے پھر کائنات میں کسی اور دعا کی ضرورت نہیں رہتی۔
فقط،
آپ کا وہ بندہ، جو آپ کی بن مانگے عطا پر قربان جاتا ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں