مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج انتیسواں روزہ ہے۔ سورج افق کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کی ہر ڈھلتی کرن میرے دل پر ایک بھاری بوجھ بن کر اتر رہی ہے۔ آج کی افطار شاید اس سال کی آخری افطار ہو، اور آج کی رات شاید آسمان پر عید کا چاند نظر آ جائے۔ میرے مالک! میں آج انتہائی حسرت زدہ کھڑا ہوں۔ یہ حسرت اس بات کی نہیں کہ اب کھانا پینا حلال ہو جائے گا، بلکہ یہ حسرت اور کڑھن اس بات کی ہے کہ "رحمتوں کا بے کراں بازار سجا تھا" اور میں اپنا دامن پوری طرح بھر نہ سکا۔
میرے اللہ!
اب مجھے وہ قیمتی لمحے یاد آ رہے ہیں جو میں نے لایعنی اور فضول باتوں میں ضائع کر دیے، وہ دوپہریں یاد آ رہی ہیں جو میں نے غفلت کی نیند سو کر گزار دیں، اور وہ راتیں یاد آ رہی ہیں جب میری آنکھ کھلی تو تھی مگر میں نے مصلّے پر آنے کے بجائے بستر کے سکون کو ترجیح دی۔ ہائے! کاش میں نے ذرا اور ہمت کی ہوتی! کاش میں نے ایک رکعت اور پڑھ لی ہوتی! کاش میں نے ندامت کا ایک آنسو اور بہایا ہوتا! اب جب یہ مبارک مہینہ ختم ہو رہا ہے، تو مجھے شدت سے محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے کتنی بڑی دولت کو کتنی ارزاں قیمت پر گنوا دیا۔
میرے پیارے رب!
بظاہر لوگ عید کی تیاریوں میں مگن ہیں، ہر طرف نئے کپڑوں اور لذیذ پکوانوں کے تذکرے ہیں، لیکن میرا دل آج اس بدقسمت کسان کی طرح ہے جس نے فصل کٹنے کے وقت دیکھا کہ اس کی زمین کا ایک بڑا حصہ بنجر ہی رہ گیا ہے۔ میرے مالک! کیا میں ان محروم اور بدنصیب لوگوں میں تو نہیں ہوں جن کے بارے میں آپ کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا تھا کہ "ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے رمضان پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا"؟ مالک! یہ جملہ میری روح کو لرزا رہا ہے۔
اے میرے غفور و رحیم اللہ!
میری اس حسرت اور رنجش کو قبول فرما لیجیے، کیونکہ سچی ندامت بھی تو توبہ ہی کا ایک روپ ہے۔ اگر میں نے سستی کی، تو بھی میں آپ ہی کا بندہ ہوں۔ اگر میں نے غفلت کی، تو بھی آپ ہی کے در کا سوالی ہوں۔ ان آخری اور قیمتی لمحوں میں، جب آپ کے رحمت کے فرشتے اپنے فرائض مکمل کر کے آسمانوں کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں، تو ان کے ہاتھوں میں میری بخشش اور مغفرت کی مہر لگا کر روانہ فرمانا۔ میری ان ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو اپنی شانِ کریمی کے صدقے قبول فرما لیجیے۔
میرے مولا!
اس رمضان کے آخری سجدے میں میرے بے قرار دل کو وہ سکون عطا کر دیجیے کہ میری تمام حسرتیں آپ کے فضل کے سمندر میں ہمیشہ کے لیے غرق ہو جائیں۔
فقط،
آپ کا وہ بندہ، جو آج اپنی کمیوں اور غفلتوں پر بے حد نادم ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں