خالد سیف اللہ موتیہاری
تاریخِ انسانی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جو صدیوں کے اندھیرے کو ایک ہی جھٹکے میں روشنی میں بدل دیتے ہیں۔ کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں اور انسانی تہذیب کی سمت بدل دیتے ہیں۔ ۸ ہجری رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ ایک ایسا ہی دن تھا جب صحرائے حجاز کے سینے پر وہ سورج طلوع ہوا جس کی روشنی نے کعبۃ اللہ کے گرد صدیوں سے جمے بتوں کے سائے کو مٹا دیا، ظلم کی دیواریں گرا دیں اور ایمان کا وہ پرچم بلند کیا جو آج بھی لہرا رہا ہے۔ فتحِ مکّہ کا واقعہ نہ صرف اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے بلکہ یہ انسانیت کی اس سب سے بڑی فتح کی داستان ہے جس میں فاتح نے مفتوح پر کوئی انتقام نہ لیا، کوئی خون نہ بہایا، کوئی آگ نہ لگائی بلکہ معافی کا وہ اعلان کیا جو دنیا کی کسی بھی فوجی فتح کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
اس عظیم دن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تھوڑا پیچھے جائیں اور ان حالات کا جائزہ لیں جن میں رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے صحابہ نے مکّہ مکرمہ کی سرزمین چھوڑی تھی۔ ۱۳ برس کی مکّی زندگی ظلم، تکلیف، اذیت اور آزمائش کی ایسی داستان ہے جسے پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ جن لوگوں نے صرف اس لیے جبر برداشت کیا کہ وہ ایک اللہ کا کلمہ پڑھتے تھے، جنہیں گرم ریت پر لٹایا گیا، جن کے گلوں میں رسیاں ڈالی گئیں، جن کا سماجی مقاطعہ کیا گیا، جن کے گھر جلائے گئے وہی لوگ آج اسی شہر میں فاتح بن کر داخل ہو رہے تھے۔ کوئی بھی انسانی نفسیات یہ کہتی کہ اب وقتِ انتقام ہے، اب حساب چکانے کا موقع ہے۔ لیکن جو شخصیت اس لشکر کی قیادت کر رہی تھی وہ عام انسانوں کے پیمانوں سے ماوراء تھی۔
رمضان المبارک کا مہینہ تھا، جس میں مسلمان روزے سے تھے، لیکن یہ روزہ جسمانی کمزوری نہیں بلکہ روحانی طاقت کا مظہر تھا۔ دس ہزار سے زائد صحابہ کرامؓ پر مشتمل یہ لشکر جب مکّہ کی طرف روانہ ہوا تو مدینے سے اتنی خاموشی اور رازداری کے ساتھ نکلا کہ قریش کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ نبی کریم ﷺ کی حکمتِ عملی اور دور اندیشی کا یہ ایک اعجاز تھا۔ آپؐ یہ جانتے تھے کہ جنگ سے بچنا ممکن ہے، خون بہانے سے گریز کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ حریف کو ہوش میں آنے کا موقع مل جائے۔ اسی لیے جب قریش کو اس لشکر کی خبر ہوئی تو ان میں ہمت اور اتحاد دونوں ہی نہ رہے تھے، ابو سفیان جیسا سرداران کہ سردار بھی اس بات پر قائل ہو چکا تھا کہ مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں۔
ابو سفیانؓ کی آمد اور ان کا قبول اسلام اس پورے واقعے کا ایک نہایت دلچسپ باب ہے۔ وہی ابو سفیان جنہوں نے بدر، احد اور خندق میں اسلام کے خلاف لشکر کشی کی تھی، جن کی بیوی نے حضرت حمزہؓ کی لاش کے ساتھ ناقابلِ بیان سلوک کیا تھا وہ آج رات کے اندھیرے میں لشکرِ اسلام کے قریب آ گئے تھے۔ حضرت عباسؓ نے انہیں پناہ دی اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ آپؐ نے ان سے صرف ایک جملہ کہا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے تھا: ''ابو سفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟'' ابو سفیانؓ نے کلمہ پڑھا اور اسلام کی آغوش میں آ گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام نے ثابت کر دیا کہ وہ دلوں کو فتح کرتا ہے، دیواروں کو نہیں۔
بیسویں رمضان کی صبح جب یہ لشکر مکّہ کی وادیوں میں اترا تو آسمان پر سورج طلوع ہو رہا تھا اور زمین پر ایمان کا نیا سویرا آ رہا تھا۔ لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر حصے کو مکّے کی مختلف سمتوں سے داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے تمام سپہ سالاروں کو سختی سے یہ ہدایت دی کہ کسی بھی شخص سے تعرض نہ کیا جائے، جو گھر میں بند رہے اسے نہ چھیڑا جائے، جو ہتھیار رکھ دے اسے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یہ کوئی عام فوجی مہم نہیں تھی یہ ایک انقلاب تھا جو رحمت کے لبادے میں آیا تھا۔ زیادہ تر مقامات پر بلا مزاحمت داخلہ ہوا، صرف چند جگہوں پر معمولی مزاحمت ہوئی جسے فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار ۲۱ سال سے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کعبۃ اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے وہی کعبہ جسے حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا اور جسے جاہلیت نے ۳۶۰ بتوں کی آماجگاہ بنا دیا تھا۔ آپؐ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپؐ نے بتوں کی طرف اشارہ کیا اور قرآن کریم کی آیت تلاوت فرمائی: ''جاء الحق وزہق الباطل، إن الباطل کان زہوقاً'' حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا، بے شک باطل بھاگنے والا ہی ہوتا ہے۔ بتوں کے گرنے کی آواز سے پورا مقدس احاطہ گونج اٹھا۔ یہ محض پتھروں کا گرنا نہیں تھا یہ ان تمام جھوٹی عبودیتوں کا خاتمہ تھا جنہوں نے انسان کو انسان کا غلام بنا رکھا تھا، یہ ان تمام طاغوتی طاقتوں کی شکست تھی جو آزاد انسان کی گردن پر سوار تھیں۔
کعبے کی چابی حضرت عثمان بن طلحہؓ کو واپس دینا بھی اس دن کا ایک ایسا واقعہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی انسانی بصیرت اور عدل کا مظہر ہے۔ حضرت علیؓ نے خواہش ظاہر کی کہ کعبے کی تولیت اور آبرسانی دونوں ان کے خاندان کو مل جائیں لیکن آپؐ نے انکار فرمایا اور کہا کہ یہ امانت اسی خاندان کو واپس ملے گی جس کے پاس پہلے تھی۔ یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ فتح کا نشہ آپؐ پر قطعاً نہیں تھا، آپؐ کی نظر میں ذاتی اور خاندانی فوائد کی کوئی اہمیت نہیں تھی، آپؐ کے لیے انصاف اور امانت سب سے بڑی قدر تھی خواہ اس سے اپنوں کو کچھ نہ ملے اور غیروں کو فائدہ پہنچے۔
اور پھر آیا وہ لمحہ جو فتحِ مکّہ کا سب سے تاباں پہلو ہے اور جس پر ہر آنے والی نسل کو ناز ہونا چاہیے۔ جب تمام قریش مسجد الحرام میں جمع ہوئے، جن میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے مسلمانوں پر ظلم کیا تھا، جنہوں نے صحابہ کو تڑپا تڑپا کر شہید کیا تھا، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے تھے، جنہوں نے آپؐ کو طائف میں پتھر مروائے تھے تو آپؐ نے ان سب سے خطاب کیا اور فرمایا: ''آج میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہا تھا آج تم پر کوئی ماخذ نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔'' یہ الفاظ سن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، دل تھرّا اٹھتا ہے۔ صدیوں کے ظلم کے جواب میں معافی، نسلوں کی تکلیف کے بدلے میں آزادی یہ وہ اخلاقی عظمت ہے جو کسی فلسفے، کسی نظریے اور کسی قانونی کتاب میں نہیں ملتی۔
مغربی مورّخین اور دانشور بھی اس واقعے کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے نظر آتے ہیں۔ واشنگٹن ارونگ نے لکھا کہ کسی بھی فاتح نے اتنی عظمت اور رحمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایڈورڈ گبن جیسے سخت ناقد نے بھی اعتراف کیا کہ یہ فتح اپنی اخلاقی جہت میں بے مثال تھی۔ تھامس کارلائل نے لکھا کہ اس دن جو ہوا وہ دنیا کی عام فتوحات سے یکسر مختلف تھا یہ ایک روح کی فتح تھی، ایک نظریے کی فتح تھی، ایک اخلاق کی فتح تھی۔ یہ گواہیاں اس لیے اہم ہیں کہ یہ ان لوگوں کی زبان سے نکلی ہیں جو مسلمان نہیں تھے، جن کا کوئی عقیدتی تعلق اسلام سے نہیں تھا لیکن حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا۔
اس عظیم دن کا ایک اور پہلو جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ حضرت بلالؓ کی اذان ہے۔ وہی بلالؓ جن کو امیّہ بن خلف گرم ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھتا تھا، جن کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا گیا تھا، جن کی زبان سے ''احد احد'' کے سوا کچھ نہ نکلا تھا وہ آج کعبے کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دے رہے تھے۔ یہ اذان ایک آواز نہیں تھی، یہ ایک اعلانِ انقلاب تھا۔ یہ اذان کہہ رہی تھی کہ دنیا بدل گئی، انسان کو انسان نے آزاد کر دیا، برابری کا وہ اصول جو آسمانوں سے اترا تھا آج زمین پر عملاً نافذ ہو گیا۔ جس دن بلالؓ نے کعبے پر اذان دی اس دن صرف ایک نماز نہیں پڑھی گئی، اس دن انسانی برابری کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔
رمضان المبارک کے اس مبارک دن کی یہ فتح ایک اور اعتبار سے بھی غیر معمولی ہے۔ عام طور پر تاریخ میں فتوحات کے بعد فاتح قوم اپنی ثقافت، زبان اور تہذیب کو زبردستی مسلّط کرتی ہے، مفتوح قوم کو نیچا دکھاتی ہے، ان کی تاریخ مٹاتی ہے۔ لیکن فتحِ مکّہ کے بعد جو ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ مکّے کے لوگ نہ صرف آزاد چھوڑے گئے بلکہ انہیں مسلمانوں کا برابر کا بھائی قرار دیا گیا، ان کے مال و اسباب ان کے پاس رہنے دیے گئے، ان کے خاندانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فتحِ مکّہ کے بعد قریش کی اکثریت نے دل کی گہرائیوں سے اسلام قبول کیا انہیں کسی دبائو کی ضرورت نہ تھی، رحمت کی یہ گھٹا خود انہیں اپنے اندر کھینچ لیتی تھی۔
فتحِ مکّہ کے بعد جو غزوات ہوئے ان میں بھی مسلمانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ حنین کے معرکے میں بارہ ہزار افراد شریک تھے جو چند ہفتے پہلے فتحِ مکّہ سے پہلے صرف دس ہزار تھے دو ہزار نئے مسلمان صرف چند ہفتوں میں۔ یہ اسلام کی اس روشنی کا اثر تھا جو فتحِ مکّہ کے دن پوری دنیا میں پھیل گئی تھی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر جب ایک لاکھ سے زائد صحابہؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے تو یہ اسی بیج کا پھل تھا جو ۲۰ رمضان ۸ ہجری کو بویا گیا تھا۔
آج جب ہم ۲۰ رمضان کی یاد تازہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اس واقعے کا آج کے مسلمانوں سے کیا رشتہ ہے۔ فتحِ مکّہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں جس پر فخر کیا جائے اور آگے بڑھ جایا جائے یہ ایک نصاب ہے، ایک عملی تعلیم ہے، ایک روشنی ہے جو ہر دور میں رہنمائی کر سکتی ہے۔ اس دن کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ طاقت کا صحیح استعمال وہ ہے جو انسانوں کو آزاد کرے، نہ کہ انہیں مزید غلام بنائے۔ یہ دن سکھاتا ہے کہ معافی کمزوری نہیں، بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ دن بتاتا ہے کہ جو قوم اپنے دشمنوں کو بھی انصاف دیتی ہے وہی قوم تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔
رمضان المبارک اور فتحِ مکّہ کا یہ امتزاج بھی غور طلب ہے۔ یہ مہینہ جو روحانی تربیت، خود احتسابی اور تزکیۂ نفس کا مہینہ ہے اسی میں وہ عظیم ترین فتح نصیب ہوئی جو تاریخِ اسلام نے دیکھی۔ گویا اللہ نے یہ پیغام دیا کہ باہر کی فتح کے لیے پہلے اندر کی فتح ضروری ہے، جو اپنے نفس پر قابو پا لے وہ دنیا کو فتح کر سکتا ہے، جس نے بھوک اور پیاس میں اللہ کی رضا ڈھونڈی اسے وہ طاقت ملی جو تلواروں اور توپوں سے نہیں ملتی۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور یہی فتحِ مکّہ کا اصل راز ہے۔
آج جب دنیا بھر میں ۲۰ رمضان آتا ہے تو مسلمانوں کے دل کسی انجانی مسرّت سے بھر جاتے ہیں۔ یہ مسرّت کسی فوجی فتح کی نہیں یہ اس یقین کی خوشی ہے کہ حق نے باطل کو شکست دی، یہ اس امید کی روشنی ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک دن ضرور ختم ہوتا ہے، یہ اس اعتماد کی تازگی ہے کہ انسانی عظمت قہر میں نہیں رحمت میں ہے، انتقام میں نہیں معافی میں ہے، تنگ نظری میں نہیں وسعتِ قلب میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس دن دنیا کو جو سبق دیا وہ آج بھی اتنا ہی تازہ اور اتنا ہی ضروری ہے جتنا چودہ سو سال پہلے تھا۔
فتحِ مکّہ کی یہ داستان دراصل اس سوال کا جواب ہے جو ہر دور میں پوچھا جاتا رہا ہے: طاقت آخر کار کس کی جیتتی ہے؟ جسموں کی طاقت یا روحوں کی؟ تلوار کی قوت یا کردار کی؟ فوجوں کی تعداد یا اخلاق کی بلندی؟ بیسویں رمضان نے یہ جواب دے دیا کہ آخری فتح ہمیشہ اس کی ہوتی ہے جو انسانوں کے دلوں کو فتح کرتا ہے اور دل صرف محبت، انصاف اور رحمت سے فتح ہوتے ہیں۔ یہی پیغام ہے جو مکّے کی وادیوں سے اٹھا اور آج بھی فضاؤں میں گونج رہا ہے، یہی آواز ہے جو حضرت بلالؓ کی اذان میں سے نکلی اور آج بھی ہر مسجد سے بلند ہوتی ہے اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا إلہ إلا اللہ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں