واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

چوبیسواں روزہ: معافی

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج چوبیسواں روزہ ہے۔ نجات کے آخری عشرے کی ان مبارک اور پرنور ساعتوں میں ہر طرف سے ایک ہی صدا گونج رہی ہے: "اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي" (اے اللہ! بے شک آپ معاف فرمانے والے ہیں، معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں، پس مجھے معاف فرما دیجیے)۔ میرے مالک! میرے لبوں پر بھی مسلسل یہی دعا مچل رہی ہے، لیکن آج اچانک میرے ہی اندر سے اٹھنے والے ایک خیال نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
میرے اللہ!
میں آپ سے تو اپنی خطاؤں کی معافی کا طلبگار ہوں، لیکن میرا اپنا دل آپ کی مخلوق کے لیے کینے، رنجشوں اور انتقام کی آگ سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے برسوں پرانی تلخ باتوں کو اپنے سینے سے لگا رکھا ہے، میں نے نجانے کتنوں سے قطع تعلق کر رکھا ہے، اور میں نے اپنے بھائیوں، دوستوں اور عزیزوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں کو اپنی "جھوٹی انا" کا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ مالک! میں کتنا ظالم اور منافق ہوں کہ میں خود تو کسی کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں، مگر آپ سے "عفو و درگزر" کی امیدیں باندھے بیٹھا ہوں۔
میرے پیارے رب!
آپ تو شہنشاہِ کائنات ہو کر ہم گناہ گاروں کو پل بھر میں معاف فرما دیتے ہیں، اور میں خاک کا ایک حقیر پُتلا ہو کر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی خطائیں معاف نہیں کر پاتا؟ آج میں نے یہ حتمی فیصلہ کیا ہے کہ اس سے پہلے کہ میں آپ کے حضور اپنی بخشش کی بھیک مانگوں، میں ان تمام لوگوں کو سچے دل سے معاف کرتا ہوں جنہوں نے میرا دل دکھایا، جنہوں نے مجھ پر بہتان تراشے، یا جنہوں نے شعوری یا لاشعوری طور پر میرا حق مارا۔ میں نے ان سب کو محض آپ کی رضا کی خاطر اپنے دل سے رہا کر دیا۔
اے میرے کریم اللہ!
میں نے اپنے دل کے حجرے کو صاف کر دیا ہے، اب اس میں کسی بھی بندے کے لیے کوئی میل یا کدورت باقی نہیں رہی۔ میرے مالک! اب آپ بھی میرے گناہوں کے سیاہ دفتر کو دھو دیجیے۔ جس طرح آج میں نے آپ کے بندوں کی لغزشوں پر پردہ ڈالا ہے، آپ بھی روزِ محشر میری تمام رسوائیوں پر پردہ ڈال دیجیے گا۔ مجھے وہ وسعتِ قلبی عطا فرما دیجیے جو بدلہ لینے کی مکمل طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دینے کی روحانی لذت سے واقف ہو۔
میرے مولا!
آج کی رات جب آپ کی رحمت، مغفرت کے پروانے بانٹ رہی ہو، تو میرا نام بھی اس فہرست میں شامل فرما لیجیے گا، کیونکہ آج میں نے آپ کے بندوں کو محض اس امید پر معاف کیا ہے کہ آپ مجھے معاف فرما دیں گے۔
فقط،
آپ کا وہ بندہ، جس نے آج اپنا دل سب کے لیے صاف کر دیا۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے