میرے مالک!
آج سترہواں روزہ ہے۔ میں آج آپ کی بارگاہ میں اس مہلک زہر کا اعتراف کرنے آیا ہوں جو میری عبادتوں کی حلاوت کو خاموشی سے چاٹ رہا ہے۔ میرے رب! وہ زہر "دکھاوا" اور "ریاکاری" ہے۔ مالک! کبھی کبھی مجھے اپنے آپ سے ڈر لگتا ہے کہ میری یہ طویل نمازیں، میرے یہ روزے اور میری یہ تحریریں خالصتاً آپ کی رضا کے لیے ہیں، یا ان دنیاوی نگاہوں کے لیے جن سے میں داد اور ستائش وصول کرنا چاہتا ہوں؟
میرے اللہ!
ہم اندر سے کتنے کھوکھلے ہو گئے ہیں۔ ہم کوئی نیکی کرتے ہیں تو ہماری اولین چاہت یہ ہوتی ہے کہ دنیا کو اس کی خبر ہو جائے۔ ہم آپ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں تو کیمرے کی آنکھ اسے محفوظ کر رہی ہوتی ہے۔ ہم مصلّے پر گڑگڑاتے اور آنسو بہاتے ہیں تو دل کے کسی تاریک گوشے میں یہ نفسانی خواہش انگڑائی لے رہی ہوتی ہے کہ دیکھنے والے ہمیں "عابد" اور "زاہد" سمجھیں۔ میرے مالک! میں نے لوگوں کی کھوکھلی واہ واہ کی خاطر اپنی نیکیوں کا کتنا سستا سودا کر لیا ہے۔ میں نے "واحد" کو چھوڑ کر "کثرت" (ہجوم) کو راضی کرنے کی لاحاصل کوشش کی، حالانکہ عزت، ذلت، نفع اور نقصان تو صرف آپ کی مٹھی میں تھا۔
میرے پیارے رب!
ریاکاری اور دکھاوا تو وہ خاموش دیمک ہے جو نیکی کے تناور درخت کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ میرے لیے وہ لمحہ کتنا ہولناک ہوگا کہ روزِ محشر میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آپ کے روبرو حاضر ہوں، اور آپ فرما دیں کہ "تم نے یہ سب تو محض لوگوں کی ستائش کے لیے کیا تھا، اور تم نے دنیا میں ان سے اپنا صلہ پا لیا، آج میرے پاس تمہارے لیے کوئی اجر نہیں"۔ میرے مولا! مجھے اس دن کی ناقابلِ برداشت رسوائی اور شرمندگی سے بچا لیجیے۔
اے میرے ہمدم و رازدار!
مجھے "اخلاص" کی وہ نایاب دولت عطا کر دے۔ میری نیکیوں کو مجھ سے اور دنیا سے ویسے ہی چھپا دے جیسے تو نے میرے گناہوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ مجھے وہ روحانی لذت عطا کر کہ جب میں خلوت کی تنہائی میں تجھے یاد کروں، تو مجھے اپنے وجود سمیت کسی دوسری شے کا احساس تک نہ رہے۔ میرا ہر سجدہ، میرا ہر روزہ، میری ہر آہ اور میرا ہر حرف صرف اور صرف آپ کی دید اور خوشنودی کے لیے وقف ہو۔ مجھے لوگوں کی تنقید سے بے نیاز اور ان کی جھوٹی تعریفوں سے مکمل بے پروا کر دے۔
میرے اللہ!
اس ماہِ مبارک کی برکت سے میرے دل کے آئینے کو اس قدر مصفّیٰ کر دے، کہ اس میں آپ کے سوا کسی اور کی طلب کا عکس باقی نہ رہے۔ مجھے ویسا بندہ بنا لے جو ظاہر کی دنیا میں بھی آپ کا ہو اور باطن کی تنہائیوں میں بھی صرف آپ کا۔
فقط،
آپ کا وہ عاجز بندہ، جو شہرت کے اندھیروں سے نکل کر اخلاص کی روشنی کا طلبگار ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں