واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

درخت 🌲

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...


خالد سیف اللہ موتیہاری 

میں نے کبھی کسی درخت کو بھاگتے نہیں دیکھا۔
یہ بات سادہ ہے، مگر جتنا سوچتا ہوں اتنا ہی عجیب لگتی ہے۔ ہم انسان ساری عمر بھاگتے رہتے ہیں صبح سے شام تک، ایک کام سے دوسرے کام تک، ایک فکر سے دوسری فکر تک۔ اور درخت؟ وہ بس کھڑا رہتا ہے۔ آندھی آئے، طوفان آئے، دھوپ جلائے وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم میں اور درخت میں کون زیادہ عقلمند ہے۔
درخت سے میری پہلی ملاقات اگر ملاقات کہہ سکیں ایک پرانے برگد سے ہوئی تھی جو ہمارے محلے کے کنارے کھڑا تھا۔ اتنا بڑا کہ اس کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئی تھیں، موٹی موٹی، جیسے کسی بوڑھے کی رگیں۔ ہم بچے اسی کی جڑوں پر بیٹھ کر کنچے کھیلتے تھے، اسی کی ٹہنیوں پر چڑھنے کی کوشش کرتے تھے، اسی کے سائے میں گرمیوں کی دوپہر گزارتے تھے۔
وہ برگد کبھی ہم سے ناراض نہیں ہوا۔ ہم نے اس کی چھال چھیلی، ٹہنیاں توڑیں، اس پر نام کندہ کیےاور اس نے بدلے میں سایہ دیتا رہا۔
درخت شاید دنیا کا سب سے صابر مخلوق ہے۔
درخت کی زندگی پر غور کریں تو حیرت ہوتی ہے۔
وہ ایک جگہ پیدا ہوتا ہے اور اسی جگہ مرتا ہے پوری زندگی میں ایک قدم بھی نہیں چلتا۔ مگر اس ایک جگہ کھڑے ہو کر وہ کیا کیا نہیں کرتا۔ جڑیں زمین میں اتنی گہری اتارتا ہے کہ طوفان بھی ہلا نہیں سکتا، شاخیں آسمان کی طرف اتنی پھیلاتا ہے کہ پرندوں کو گھر ملتا ہے، پتے اگاتا ہے تاکہ راہ گیر کو سایہ ملے، پھل دیتا ہے تاکہ بھوکے کو کچھ مل سکے۔
اور یہ سب بغیر کسی اعلان کے، بغیر کسی توقع کے۔
ہم انسان جب کوئی بھلائی کرتے ہیں تو کم از کم دس لوگوں کو بتاتے ہیں۔ درخت نے آج تک کسی کو نہیں بتایا کہ میں نے کتنوں کو سایہ دیا، کتنے پرندوں کو گھر دیا، کتنی بارشیں روکیں، کتنی مٹی بچائی۔
درخت کا ایک اور کام ہے جو ہم بھول جاتے ہیں۔
وہ وقت رکھتا ہے۔
ہر سال اس کے تنے میں ایک حلقہ بڑھتا ہے خاموشی سے، بغیر کسی کو بتائے۔ درخت کاٹو تو اس کے اندر سالوں کی داستان ملتی ہے۔ یہ حلقہ خشک سال میں پتلا ہوتا ہے، بارش والے سال میں موٹا۔ یعنی درخت نے ہر تکلیف اور ہر خوشی اپنے اندر محفوظ کر لی مگر باہر سے ہمیشہ سبز رہا۔

کاش ہم بھی ایسے ہوتے اندر سے سب کچھ سنبھالیں، باہر سے سبز رہیں۔
ہمارے ہاں درخت کا رشتہ صرف فطرت سے نہیں، یادوں سے بھی ہے۔
ہر گھر میں کوئی نہ کوئی درخت ہوتا ہے جو کئی نسلوں کا گواہ ہے۔ دادا نے لگایا تھا، باپ نے اس کے سائے میں کھیلا، اب پوتے کھیلتے ہیں۔ اس درخت نے تین پشتوں کی عیدیں دیکھی ہیں، تین پشتوں کے غم دیکھے ہیں، تین پشتوں کے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھا ہے۔
جب ایسا درخت کاٹا جاتا ہے تو گھر والوں کو صرف درخت کا نقصان نہیں ہوتا یادوں کا ایک سلسلہ ٹوٹتا ہے۔
مگر ہم درخت کاٹتے ہیں بہت آسانی سے، بہت بے دردی سے۔
سڑک چوڑی کرنی ہے تو درخت کاٹو، عمارت بنانی ہے تو درخت کاٹو، کچھ اور کرنا ہے تو پہلے درخت کاٹو۔ جو چیز بولتی نہیں، شکایت نہیں کرتی، عدالت نہیں جاتی اسے ختم کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔
اور پھر ہم کہتے ہیں گرمی بڑھ گئی، بارش کم ہو گئی، ہوا میں سانس لینا مشکل ہو گیا۔
درخت نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں ضروری ہوں ہم نے سنا نہیں۔
ایک بات جو مجھے ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
درخت کے پتے خزاں میں گرتے ہیں ایک ایک کر کے، آہستہ آہستہ۔ ننگا ہو جاتا ہے، سوکھا لگتا ہے، بے جان دکھتا ہے۔ دیکھنے والا سوچتا ہے شاید مر گیا۔ مگر اندر سے جڑیں کام کرتی رہتی ہیں خاموشی سے، بغیر کسی کو بتائے۔ اور پھر بہار آتی ہے تو وہی درخت نئے پتوں سے بھر جاتا ہے۔
درخت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ننگا ہونا مرنا نہیں ہے۔ کبھی کبھی پرانا گرانا پڑتا ہے تاکہ نیا آ سکے۔
آج صبح گھر سے نکلا تو راستے میں ایک پرانا نیم کا درخت نظر آیا۔ اس کی ایک شاخ پر تین چڑیاں بیٹھی تھیں، نیچے ایک بلی سوئی ہوئی تھی، اور ایک بوڑھا آدمی اس کی جڑ کے پاس بیٹھ کر آنکھیں بند کیے تھا۔
تینوں کو سایہ مل رہا تھا۔ درخت سے کسی نے نہیں پوچھا تھا، درخت نے کسی سے نہیں پوچھا تھا۔
بس دیتا رہا جیسے ہمیشہ دیتا رہا ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے