📢 واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

ڈاکٹر امبیڈکر تصویروں کی پوجا یا دستور کی پیروی؟

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...
خالد سیف اللہ موتیہاری 
آج چودہ اپریل ہے۔ پورے بھارت میں چراغاں ہے، تقریریں ہیں، جلوس ہیں، اورنیلے پرچم ہوا میں لہرا رہے ہیں۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویروں پر پھولوں کے ہار چڑھائے جا رہے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر ملک کے ایک باشعور شہری کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس شخص کو یاد کر رہے ہیں، یا اس کی یادگار کو؟ جشن منانا برا نہیں، لیکن جشن اگر احتساب کی جگہ لے لے تو وہ محتسب کے ساتھ سب سے بڑی بے وفائی ہے۔ امبیڈکر نے اپنی پوری زندگی جشنوں میں نہیں، سوالوں میں گزاری تھی۔ ان کا اصل ورثہ وہ پرچم نہیں جو آج ہاتھوں میں لہرا رہا ہے، بلکہ وہ دستاویز ہے جو ہر بھارتی شہری کے حقوق کی ضامن ہے اور جسے ہم دستورِ ہند کے نام سے جانتے ہیں۔
امبیڈکر کو ایک خاص طبقے کا نمائندہ یا کسی ایک تحریک کا علامتی چہرہ سمجھنا ان کی فکر کے ساتھ انصاف نہیں۔ وہ ایک سیاسی معمار تھے جنہوں نے صدیوں کے سماجی انتشار، ذات پات کی تفریق، اور نوآبادیاتی استحصال کے بعد ایک بکھرے ہوئے سماج کو قانون کے رشتے میں پرونے کی کوشش کی۔ دستورِ ہند دراصل ایک عمرانی معاہدہ ہے، جو اس سرزمین کے کروڑوں مظلوم انسانوں نے خود سے کیا تھا۔ یہ ضابطوں اور دفعات کا خشک مجموعہ نہیں، بلکہ ایک وعدہ ہے جو ایک قوم نے اپنے مستقبل سے کیا تھا کہ اب کوئی انسان اپنی ذات، مذہب، جنس یا غربت کی وجہ سے پسا نہیں جائے گا۔
دستور کی دفعہ چودہ برابری کا اعلان کرتی ہے اور دفعہ اکیس ہر شہری کو باوقار زندگی کا حق دیتی ہے۔ یہ دو دفعات اگر واقعی حکومتی پالیسی کا محور بن جائیں تو اس ملک کی تقدیر بدلنے میں کوئی طاقت آڑے نہیں آ سکتی۔ ماہرِ سیاسیات کی نظر سے دیکھیں تو قانون کی حکمرانی کبھی محبت کے نعروں یا قومی جذبے کی آتش سے قائم نہیں ہوتی۔ وہ صرف اور صرف دستور کی پاسداری سے آتی ہے۔ جذبات ریاست نہیں چلاتے، ادارے چلاتے ہیں، اور ادارے تبھی چلتے ہیں جب دستور کو سیاسی مصلحتوں پر مقدم رکھا جائے۔
امبیڈکر نے ایک بار کہا تھا کہ سیاسی جمہوریت اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک اس کی بنیاد میں سماجی جمہوریت نہ ہو۔ یہ جملہ آج بھی اتنا ہی تازہ اور تکلیف دہ ہے جتنا اس روز تھا جب انہوں نے کہا تھا۔ آج بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اگر ہم اپنے سماج کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ذات پات کی زنجیریں آج بھی باقی ہیں، معاشی استحصال کی جڑیں آج بھی گہری ہیں، اور خواتین سے لے کر اقلیتوں تک، پسماندہ طبقات سے لے کر قبائلی آبادیوں تک، "برابری" ابھی تک ایک نصابی لفظ ہے نہ کہ ایک زندہ حقیقت۔ جب تک سماجی انصاف صرف عدالتوں میں دائر درخواستوں کا موضوع رہے گا اور عام زندگی کا تجربہ نہیں بنے گا، تب تک سیاسی جمہوریت کا یہ قلعہ ریت پر کھڑا رہے گا۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال اٹھتا ہے جس سے ہم آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ کیا ہم نے دستور کو صرف عدالتوں اور پارلیمنٹ کی دہلیز تک محدود کر دیا ہے؟ دیہات میں، گلیوں میں، کھیتوں میں کام کرنے والے کروڑوں شہریوں کو معلوم ہی نہیں کہ دستور انہیں کیا حقوق دیتا ہے۔ دستوری بیداری، خاص طور پر مقامی اور دیہی سطح پر، ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ وہ کسان جو بندھوا مزدوری کا شکار ہے، وہ عورت جو گھریلو تشدد سہہ رہی ہے، وہ بچہ جسے اسکول کی بجائے بھٹے پر کام کرنا پڑ رہا ہے، یہ سب دستور کے دائرے میں ہیں، لیکن دستور ان تک پہنچا نہیں۔ اور یہ کام صرف سرکاری مہمات سے نہیں ہوگا۔ "دستوری اخلاقیات" کی تربیت اسکولوں اور مدرسوں کی سطح پر دی جانی چاہیے، تاکہ آنے والی نسل قانون کو صرف سزا کا خوف نہیں بلکہ زندگی کا سلیقہ سمجھے۔ قانون کی حقیقی طاقت اس کی موجودگی میں نہیں، اس کے نفاذ میں ہے۔ اور نفاذ تب ممکن ہے جب وہ شخص جس کے لیے قانون بنایا گیا ہے، اسے اپنا حق سمجھے، حکومت کی مہربانی نہیں۔
ذرا تصور کریں ایک ایسے بھارت کا، جہاں تعلیم کاروبار نہیں بلکہ ہر بچے کا آئینی حق ہو، جہاں انصاف فوری اور سستا ہو اور غریب کو وکیل کی فیس اور سال ہا سال کی تاریخوں کا خوف نہ ستائے، جہاں کسی انسان کی عزت اس کے مذہب یا ذات سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے ناپی جائے۔ یہ خواب نہیں، یہ دستور کا متن ہے۔ یہ سب اس کتاب میں لکھا ہے جس پر 76 سال پہلے دستخط ہوئے تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لکھنے اور جینے میں ایک گہری خلیج حائل ہے، اور اس خلیج کو پاٹنا حکومت کی سیاسی ذمہ داری ہے، نہ کہ کوئی احسان۔
آخر میں ایک بات جو شاید سب سے ضروری ہے۔ ہمیں امبیڈکر کی تصویروں کو ہار پہنانے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں کو سینے سے لگانا ہوگا۔ ان کی فکر کو صرف یادگاری تقریبوں تک محدود رکھنا اس روشنی کو بجھانے کے مترادف ہے جو انہوں نے جلائی تھی۔ جس دن اس ملک کا آخری شہری بھی یہ محسوس کر لے گا کہ قانون اس کا دشمن نہیں بلکہ محافظ ہے، جس دن دستور صرف پارلیمنٹ کی دیواروں پر نہیں بلکہ دلوں پر نقش ہوگا، اسی روز ڈاکٹر امبیڈکر کی روح کو حقیقی سکون ملے گا اور ہمارا ملک واقعی اس لقب کا حقدار ہوگا جسے ہم ہر یومِ جمہوریہ پر طمطراق کے ساتھ دہراتے ہیں۔
🏷️ ٹیگز:

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے