از: ڈاکٹر تبسم آراء
شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنے اشعار کے ایک مصرعے میں وجودِ زن کو کائنات کی تصویر قرار دیا۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہمارے دینِ اسلام میں جو نظریہ ہے، وہی نظریہ شاعر علامہ اقبال کا بھی ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں خواتین اور ان کی آزادی سے متعلق اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ مثلاً خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے، کیونکہ باشعور خواتین سے ہی قوم و نسل کی اصلاح و تربیت ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی قوم سے درخواست کرتے ہیں کہ خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرو۔
انیسویں صدی کے انقلابات اور خواتین کی آزادی
1857ء کے تاریخی انقلابات کے بعد جب اس ملک میں انگریزوں کا دور شروع ہوا اور نیا نظام رائج ہوا، تو اس کے تحت ہر شعبے میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جدید تعلیم نے فکر و خیال کو متاثر کیا۔ سوچ بدلی، شعور اجاگر ہوا اور آزادیِ نسواں کی آواز بلند ہوئی۔ خواتین کے احساسات و جذبات کی نشر و اشاعت اخبارات و رسائل کے ذریعے ہونے لگی۔ یوں ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا رہا اور خواتین کی اصلاح کی آبیاری ہوتی رہی۔
سر سید احمد خان اور جدید تعلیم
ہندوستان میں انیسویں صدی کا آخری حصہ اور بیسویں صدی خواتین کی آزادی کی جدوجہد کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اسی زمانے میں جدید نثر کے بانی سر سید احمد خان نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی، جس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو ذہنی، معاشرتی اور اخلاقی پستی سے نکالنا تھا۔ سر سید یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم و اصلاح اور مذہبی عقائد و رسومات کو درست نہ کیا جائے۔ اس جذبے سے انھوں نے 1880ء سے رسالہ ''تہذیب الاخلاق'' میں تعلیم، کثرتِ ازدواج اور رفاہِ عورت وغیرہ عنوانات پر کئی مضامین لکھے۔ سر سید تحریک کے اثرات سے بہت جلد ایک معقول اور روشن خیال مسلمان حلقہ وجود میں آیا جس نے عام مسلمانوں کی تعلیم کے ساتھ خواتین کی تعلیم و اصلاح پر زور دیا۔
تہذیبِ نسواں اور عصمت
خواتین کے شعور کو بیدار کرنے اور ان کے علمی و ادبی ذوق و شوق کو پروان چڑھانے میں شمس العلماء مولوی ممتاز علی کے ہفتہ وار رسالے ''تہذیبِ نسواں'' نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ انقلاب آفریں رسالہ 1899ء میں لاہور سے جاری ہوا۔ مولوی ممتاز علی کی اہلیہ محمدی بیگم اس کی ایڈیٹر تھیں۔ اسی سال راشد الخیری نے بھی خاص خواتین کے لیے دہلی سے ''عصمت'' نامی رسالہ جاری کیا۔ ان رسائل نے لڑکیوں اور خواتین کی ذہن سازی کی اور ان میں تعلیم حاصل کرنے اور لکھنے کا جذبہ اجاگر کیا۔
علی گڑھ کانفرنس ۱۹۰۱ء
1901ء میں پہلی مرتبہ مسلمان خواتین کی تعلیم کے موضوع پر ایک باقاعدہ کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کا مقصد مسلمان معاشرے میں خواتین کی تعلیمی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور تعلیمِ نسواں کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ لہٰذا خواتین کی تعلیم کے مقصد سے اسکول و کالج قائم کیے گئے۔ شیخ عبداللہ عرف پاپا میاں اور بیگم وحید جہاں نے خواتین کی تعلیم و شعور بیداری کے لیے تحریکیں اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ نتیجتاً ادب کی ہر سمت میں خواتین نے شاعری، داستان، ناول، افسانہ، ڈرامہ، تحقیق و تنقید وغیرہ میں طبع آزمائی شروع کی اور تعلیم یافتہ خواتین نے معاشرے کی دیگر خواتین کی بیداری اور اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔
رسالہ خواتین نمبر
رسالہ ''خواتین نمبر'' اردو کا ایک اہم اور تاریخی نسوانی رسالہ ہے جو 1904ء میں مولانا محمد علی نے علی گڑھ سے جاری کیا۔ یہ رسالہ خواتین کی تعلیمی اصلاح، معاشرتی اور فکری بیداری کے لیے شائع کیا گیا تھا۔ اس میں تعلیم و تربیت، پردہ، اولاد، گھریلو زندگی، اخلاقی اقدار اور سماجی مسائل پر مضامین شائع ہوتے تھے۔ زبان سادہ، عام فہم اور اصلاحی تھی تاکہ عام خواتین بھی آسانی سے سمجھ سکیں۔
خلاصہ
غرض انیسویں صدی کے اختتام تک خواتین کے حقوق کی آواز بڑی تیزی سے تحریک میں بدلی اور خواتین کی تنظیمیں بھی وجود میں آئیں۔ خواتین کے مسائل کا کھل کر اظہار ہونے لگا۔ بیسویں صدی تک خواتین گھٹن زدہ ماحول سے نکل کر ملازمتیں بھی کرنے لگیں اور انھوں نے اپنی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کروا ہی لیا۔
شاعرہ کشور ناہید نے اپنی نظم ''اکیسویں صدی کا زمزمہ'' میں کہا:
کہہ دو میرؔ و غالبؔ سے، ہم بھی شعر کہتے ہیں
وہ صدی تمہاری تھی، یہ صدی ہماری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں