انشائیہ نگار: ڈاکٹر تبسم آراء
"تبسّم" جس کے نام سے ہی لبوں پر مسکراہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ یعنی مسکراہٹ محض ایک ظاہری تاثر نہیں دیتی بلکہ انسان کے اخلاق و آداب اور اس کی باطنی کیفیت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ مہذّب افراد اپنی گفتگو اور برتاؤ میں جس خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ اکثر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ذریعے نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ مسکراہٹ خلوص اور مثبت سوچ کی علامت ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد ہے:"اپنے بھائی کے لیے تمہارا مسکرانا بھی صدقہ ہے۔" [ترمذی]
اسلام نے سب سے پہلے چہرے کو پیغام بنایا ہے۔ تبسّم سے مراد ہے: زیرِ لب مسکرانا۔ یہ ہلکی سی خوشی کی لہر ہے جو حالِ دل سناتی ہے۔ انسان صرف زبان سے نہیں بولتا وہ اپنی آنکھ، چہرے اور رویّوں سے بھی بولتا ہے۔ گویا الفاظ بھی جھوٹے ہو سکتے ہیں لیکن Body Language سے حقیقت خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے۔
یہی رویّہ "کم گو" افراد کو بھی ایک گہری زبان عطا کرتا ہے۔ وہ لفظوں کے جال میں گم ہونے کے بجائے اپنے اندازِ بیان کو سادگی و وقار سے سجاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر آنکھوں کی جنبش اور ہلکی سی مسکراہٹ وہ سب کچھ کہہ دیتی ہے جو بعض اوقات لمبی گفتگو بھی نہیں کہہ پاتی۔ دراصل مسکراہٹ دل کا آئینہ ہے جو بغیر الفاظ کے انسان کی شخصیت اور باطن کو ظاہر کر دیتی ہے۔
تبسّم ہے لبوں پر اور دل میں دردکا موسم
مرے اندر ایک موسم تو باہر دوسرا موسم
تبسّم کے بھی مختلف انداز ہوتے ہیں ہلکی سی مسکراہٹ، شرارتی مسکراہٹ، طنزیہ مسکراہٹ، طلسماتی مسکراہٹ وغیرہ۔ تبسّم کے خوبصورت انداز سے آپس میں نفرت اور تلخیاں مٹ جاتی ہیں اور محبّت، اخوّت و ہم آہنگی کا فروغ ہوتا ہے۔ یہ قول عام ہے کہ "مسکراہٹ ایک ایسا تحفہ ہے جو دینے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔" تبسّم کے ذریعے بڑے سے بڑا معرکہ عبور کیا جا سکتا ہے مال و دولت، تخت و تاج، اور یہاں تک کہ دلوں کے سودے بھی ہو جایا کرتے ہیں۔
ناگپور کی نامور انشائیہ نگار محترمہ شفیقہ فرحت اپنے انشائیے "اک تبسّم" میں لکھتی ہیں:"جس کو قدرت نے ہونٹوں کا مسکان الاٹ کر دیا ہے، آج کے اس جدید دور میں بھی اس کی کوئی قیمت نہیں۔ انمول ہے، آج بھی بلینک چیک ہے۔ اگر ریسرچ اسکالرز اس طرف توجّہ دیں تو یقیناً اس میدان میں حدِّ درجہ ترقّی ہو گی۔"
تبسّم کی چند اقسام یہ ہیں:Baby Smile، Telegraphic Smile، Formalities Smile، Diplomatic Smile، Criticism Smile۔ ان میں سادہ مسکراہٹ وہ ہلکی سی خوشی ہے جو عموماً بچوں کے ہونٹوں پر پائی جاتی ہے، تاہم بڑے لوگ بھی اسے اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی چیز انہیں سو فیصد خوش کر دے مثلاً ترقّی کا آرڈر، یا گرما گرم کباب کی پلیٹ! یہ مسکراہٹ صحت کے لیے بھی انتہائی مفید مانی گئی ہے۔
بہر کیف، تبسّم ایک بیوٹی لوشن اور عمدہ ٹانک ہے جس سے چہرے کی چمک میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ وہ قدرتی نعمت ہے جو اللہ ربّ العالمین نے ہمیں عطا فرمائی ایک انمول فن جو ساری خوبیوں کے باوجود فیشن ایبل اور دانشور طبقوں میں کم ہوتا جا رہا ہے۔
بس ایک تبسّم چاہیے زندگی کے لیے
اندھیروں میں جیسے چراغ چاہیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"
تاریخ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات و خواتین کے لیے ایک لازمی مطالعہ!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں