📢 واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

تعلیم صرف اسکول میں نہیں ملتی: پہاڑ کی خاموشی سے سیکھا گیا ایک سبق

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 

تعلیم صرف اسکول میں نہیں ملتی: پہاڑ کی خاموشی سے سیکھا گیا ایک سبق

 خالد سیف اللہ موتیہاری 

پہاڑ کو پہلی بار سکم میں دیکھا تھا والد صاحب کے ساتھ۔
اس وقت عمر کچھ ایسی تھی کہ سفر کی تھکان بھی لگتی تھی اور نئی جگہ کا شوق بھی۔ بس چل رہی تھی، راستہ ٹیڑھا تھا، کبھی دائیں موڑ کبھی بائیں اور اچانک ایک موڑ کے بعد سامنے پہاڑ آ گیا۔ اتنا بڑا کہ آنکھیں یقین نہیں کر رہی تھیں۔ والد صاحب نے کہا تھا "دیکھو۔"
بس اتنا۔ کوئی وضاحت نہیں، کوئی تعریف نہیں بس "دیکھو۔"
اور میں دیکھتا رہا۔
پہاڑ اور میدان میں فرق صرف اونچائی کا نہیں، فلسفے کا ہے۔
میدان میں سب کچھ برابر ہے زمین ہموار، راستہ سیدھا، نظر دور تک جاتی ہے۔ میدان میں رہنے والا آدمی زندگی کو آسان سمجھتا ہے کیونکہ اس نے کبھی چڑھائی نہیں دیکھی۔ ہم موتیہاری والے میدانوں کے لوگ ہیں بہار کی ہموار زمین، سیدھی سڑکیں، کھلا آسمان۔ پہاڑ ہمارے لیے کہانی تھا، خواب تھا۔
جب سکم میں پہلی بار وہ کہانی سامنے کھڑی ہوئی تو سمجھ آیا کہ کچھ چیزیں دیکھے بغیر سمجھ نہیں آتیں۔
سکم کے پہاڑ عام پہاڑ نہیں ہیں۔
وہاں کی فضا الگ ہے، ہوا الگ ہے، خاموشی الگ ہے۔ اوپر بادل، نیچے کھائی، درمیان میں ہم — چھوٹے چھوٹے انسان ایک بہت بڑی تصویر میں۔ والد صاحب کے ساتھ چلتے ہوئے ایک لمحہ ایسا آیا جب راستے کے کنارے کھڑے تھے اور نیچے وادی دکھ رہی تھی ہری بھری، دھند میں ڈوبی ہوئی۔ والد صاحب خاموش تھے، میں خاموش تھا۔
کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جن میں بولنا گستاخی لگتی ہے۔ یہ ان میں سے ایک تھا۔
پہاڑ پر چڑھنے والوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہو تو اکثر ایک ہی جواب آتا ہے "اوپر سے جو نظارہ ملتا ہے وہ نیچے سے نہیں ملتا۔"
یہ جواب سادہ لگتا ہے مگر اس میں بہت گہری بات ہے۔ جب تک نیچے کھڑے ہو دنیا ایک طرح نظر آتی ہے تنگ، محدود، قریب قریب۔ جب اوپر جاؤ تو وہی دنیا پھیل جاتی ہے۔ وہ گاؤں جو بڑا لگتا تھا وہ چھوٹا دکھتا ہے، وہ ندی جو چوڑی لگتی تھی وہ دھاگے جیسی نظر آتی ہے، وہ مسئلہ جو بہت بڑا تھا وہ اوپر سے معمولی دکھنے لگتا ہے۔
سکم میں اس بات کا تجربہ ہوا تھا اور تب سے یہ بات یاد ہے۔
والد صاحب کے ساتھ سفر کا ایک الگ مزہ ہوتا ہے۔
وہ راستے میں بتاتے جاتے ہیں یہ درخت کون سا ہے، یہ پھل کہاں سے آتا ہے، یہ لوگ کیسے رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ سفر کرنا صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا نہیں ہوتا ایک کتاب پڑھنا ہوتا ہے جو راستے میں کھلتی ہے۔ سکم کے اس سفر میں بھی ایسا ہی ہوا والد صاحب نے پہاڑ دکھایا، بادل دکھائے، وادی دکھائی مگر اس سے زیادہ یہ دکھایا کہ دنیا کتنی بڑی ہے اور ہم کتنے چھوٹے۔
یہ سبق کسی اسکول میں نہیں ملتا۔
پہاڑ کی خاموشی الگ ہوتی ہے۔
شہر میں خاموشی ملتی نہیں کوئی نہ کوئی آواز ہمیشہ ہوتی ہے۔ سکم کے پہاڑوں میں جو خاموشی تھی وہ موتیہاری کی کسی رات کی خاموشی سے بھی گہری تھی۔ وہاں ہوا بھی چلے تو لگتا تھا خاموشی اور بڑھ گئی۔ اس خاموشی میں بیٹھ کر آدمی خود سے بات کر سکتا ہے اور یہ سہولت پہاڑ دیتا ہے، شہر نہیں۔
پہاڑ کا ایک کام ہے جو وہ بغیر شور کے کرتا ہے۔
وہ بادلوں کو روکتا ہے، بارش کا پانی جمع کرتا ہے، پگھلتی برف سے ندیاں بناتا ہے، ان ندیوں سے میدانوں کو پانی دیتا ہے۔ یعنی وہ کھیت جن میں بہار کی فصل اگتی ہے، وہ ندیاں جو ہمارے گاؤں کے پاس سے گزرتی ہیں ان سب کے پیچھے کسی نہ کسی پہاڑ کا احسان ہے۔
پہاڑ دور رہتا ہے مگر اس کا احسان قریب ہے۔
ایک بات جو پہاڑ دیکھ کر ہمیشہ ذہن میں آتی ہے۔
پہاڑ بنا نہیں بنایا گیا ہے۔ کروڑوں سال میں، آہستہ آہستہ، زمین کی تہوں کے دباؤ سے۔ کوئی ایک دن میں پہاڑ نہیں بنا جو آج اتنا بڑا اور مضبوط کھڑا ہے وہ وقت کی طویل محنت کا نتیجہ ہے۔ اور والد صاحب جن کے ساتھ پہلی بار پہاڑ دیکھا وہ بھی ایسے ہی بنے ہیں۔ برسوں کی محنت سے، تکلیفوں سے، ذمہ داریوں سے۔
پہاڑ دیکھ کر والد صاحب یاد آتے ہیں اور والد صاحب کو دیکھ کر پہاڑ۔
سکم کا وہ سفر کب کا ہو گیا مگر وہ پہاڑ ابھی تک آنکھوں میں ہے۔
والد صاحب کا وہ ایک لفظ بھی یاد ہے "دیکھو۔"
شاید یہی سب سے بڑی تعلیم تھی دیکھنا سیکھو، محسوس کرو، سمجھو۔ باقی سب بعد میں۔
پہاڑ نے بہت کچھ سکھایا مگر یہ سبق والد صاحب نے دیا تھا۔

🏷️ ٹیگز:

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے