واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠 سیرت طیبہ قرآن و حدیث مقالہ انشا مکتوب بندگی گردش ایام حالات حاضرہ افکار و نظریات نعت و منقبت غزل نظم ادب تاریخ شخصیات تعلیم تربیت اصلاح معاشرہ خواتین کی دنیا کتابوں کی بستی سفر نامہ متفرقات

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

پھول خود اپنی خوشبو کیوں نہیں سونگھتا؟

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

خالد سیف اللہ موتیہاری 
پھول کے بارے میں لکھنا شروع کیا تو قلم رک گیا۔
یہ پہلی بار ہوا کہ موضوع دیکھ کر لگا یہ تو بہت آسان ہے۔ پھول خوبصورت ہوتا ہے، خوشبو دیتا ہے، سب کو اچھا لگتا ہے لکھنا کیا مشکل ہے؟ مگر جب لکھنے بیٹھا تو سمجھ آیا کہ جو چیز سب کو اچھی لگے، اس کے بارے میں کچھ نیا کہنا سب سے مشکل کام ہے۔ پھول کی تعریف میں اتنا لکھا جا چکا ہے کہ اب کوئی نئی بات کہنا ایسے ہی ہے جیسے گنگا میں پانی ڈالنا۔
مگر پھر خیال آیا تعریف نہ کروں، بات کروں۔
پھول کی عمر کا سوچیں تو دل تھوڑا اداس ہوتا ہے۔
کتنے دن ہوتے ہیں ایک پھول کے پاس؟ چند روز، بس۔ کچھ تو ایک ہی دن میں مرجھا جاتے ہیں صبح کھلے، شام کو ڈھلے۔ اتنی کم عمر میں اتنی خوشبو، اتنے رنگ، اتنی خوبصورتی گویا وقت کم ہے تو پوری توانائی ابھی لگا دو۔
انسان اکثر الٹا کرتا ہے وقت ہو تو آرام کرتا ہے، جب وقت نہ رہے تب پچھتاتا ہے۔ پھول کو شاید معلوم ہے کہ وقت کم ہے، اس لیے ایک لمحہ ضائع نہیں کرتا۔
پھول کا سب سے پہلا تجربہ مجھے یاد ہے۔
بچپن میں ایک گملے میں گلاب کا پودا تھا گھر میں امی کا پسندیدہ۔ ایک صبح اس پر کلی آئی تو امی نے سب کو بلایا، جیسے گھر میں کوئی مہمان آیا ہو۔ اگلے کچھ دن وہ کلی آہستہ آہستہ کھلتی رہی اور امی روز دیکھنے جاتیں۔ جب پوری طرح کھل گئی تو اتنی خوشی ہوئی جتنی کسی بڑے کام سے نہیں ہوئی تھی۔
اس دن سمجھا تھا کہ خوشی کبھی کبھی بہت چھوٹی جگہ میں رہتی ہے ایک گملے میں، ایک کلی میں، ایک صبح میں۔
پھول کے بارے میں ایک اور بات ہے جو کم لوگ سوچتے ہیں۔
پھول کبھی خود اپنی خوشبو نہیں سونگھتا۔ وہ دوسروں کے لیے مہکتا ہے اپنے لیے نہیں۔ جو کچھ اس کے پاس ہے، رنگ ہو یا خوشبو، وہ سب باہر کی طرف ہے۔ اپنے پاس کچھ نہیں رکھتا، سب بانٹ دیتا ہے۔
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو اپنی خوشی اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ لٹاتے پھریں۔ جب ملتے ہیں تو پھول جیسے لگتے ہیں ان کے قریب جانے سے دل خوش ہو جاتا ہے، پتہ نہیں کیوں۔
پھول کا رشتہ ہماری زندگی کے ہر موڑ سے ہے اور یہ بات سوچ کر تھوڑی حیرت ہوتی ہے۔
بچہ پیدا ہو تو پھول لاتے ہیں، شادی ہو تو پھولوں سے سجاتے ہیں، کوئی بیمار ہو تو پھول لے کر عیادت کو جاتے ہیں، کوئی مر جائے تو قبر پر پھول رکھتے ہیں۔ پیدائش سے موت تک پھول ہر جگہ موجود ہے۔
شاید اس لیے کہ پھول وہ بات کہہ دیتا ہے جو ہم کہنا چاہتے ہیں مگر الفاظ نہیں ملتے۔ خوشی ہو تو پھول، غم ہو تو پھول، محبت ہو تو پھول یہ ہر جذبے کی زبان جانتا ہے۔
مگر پھول کے ساتھ ہم نے ایک ظلم بھی کیا ہے۔
ہم نے اسے توڑنا شروع کر دیا۔
پودے پر کھلا پھول اپنی جگہ پر سب سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے زندہ، تازہ، اپنی جڑوں سے جڑا ہوا۔ مگر ہمیں اسے توڑنا ہے، گھر لانا ہے، گلدان میں رکھنا ہے۔ اور پھر دو دن میں وہی پھول مرجھا جاتا ہے جو پودے پر ہفتوں تک تازہ رہ سکتا تھا۔
ہم خوبصورتی کو اپنے قریب کرنے کی کوشش میں اسے ختم کر دیتے ہیں اور یہ صرف پھولوں کے ساتھ نہیں کرتے۔
ایک بات اور ذہن میں آتی ہے۔
گلاب کو سب پسند کرتے ہیں مگر گلاب کے ساتھ کانٹے بھی ہیں۔ جو گلاب توڑنا چاہے اسے کانٹا چبھنے کا خطرہ ہے۔ مگر کیا کوئی گلاب کو اس لیے برا کہتا ہے کہ اس میں کانٹے ہیں؟ نہیں لوگ پھر بھی گلاب کی طرف جاتے ہیں، احتیاط سے، پیار سے۔
کچھ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں اچھے ہوتے ہیں مگر ان کے ساتھ ذرا سنبھل کر چلنا پڑتا ہے۔ ہم انہیں مشکل کہتےہیں۔ مگر شاید وہ گلاب جیسے ہیں کانٹا ان کی کمزوری نہیں، ان کی حفاظت ہے۔
پھول کا ایک سب سے خاموش کام ہے جو ہم کبھی نہیں دیکھتے۔
وہ جب مرجھاتا ہے تو زمین میں مل جاتا ہے اور وہی مٹی اگلے پھول کی خوراک بنتی ہے۔ یعنی ایک پھول کا مرنا دوسرے پھول کی زندگی کا سبب بنتا ہے۔
ختم ہونا اور بے فائدہ ہونا ایک بات نہیں یہ پھول سکھاتا ہے۔ ہر اختتام کسی نئی شروعات کی زمین تیار کرتا ہے۔
آج صبح گھر کے باہر ایک جنگلی پھول کھلا ہوا تھا کسی نے لگایا نہیں تھا، بس خود اگ آیا تھا۔ نہ کوئی گملہ، نہ کوئی مالی، نہ کوئی پانی دینے والا۔ دیوار کی دراڑ میں سے نکلا تھا اور کھل گیا تھا۔
کسی نے دیکھا بھی نہیں ہوگا اسے۔ مگر وہ کھلا ہوا تھا پوری آب و تاب سے، بغیر کسی تماشائی کی پروا کیے۔
یہ دیکھ کر سوچا جو بغیر دیکھے جانے کے بھی اپنا کام کرے، وہی سچا ہوتا ہے۔
پھول سچا ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

فیس بک ٹوئٹر

اس مضمون کو ریٹنگ دیں

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے