📢 واٹس ایپ چینل
✖ صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

ممتا کی توہین ایک المیہ

🌐 ترجمہ کریں:
⏱️ لوڈ ہو رہا ہے...
ممتا کی توہین ایک المیہ

از: خالد سیف اللہ موتیہاری
زمانے نے ماں کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ شاعروں نے اسے چاند سے تشبیہ دی، ادیبوں نے اسے جنت کا دروازہ کہا، اور مقررین نے منبر و محراب سے اس کی عظمت کے قصیدے پڑھے۔ یہ سب سچ ہے، اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ لیکن حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس روشن تصویر کے پیچھے چھپے اس تاریک پہلو پر بھی بات کریں جسے معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ماں کی تعریف لکھنا آسان ہے، لیکن اس کے دکھوں کا نوحہ لکھنا کلیجہ چیر دینے والا کام ہے۔ آج کا یہ مضمون اسی نوحے کی ایک کڑی ہے۔

وہ وجود جسے ہم نے فراموش کر دیا

ذرا ٹھہر کر سوچیے۔ وہ عورت جس نے نو مہینے اپنے پیٹ میں آپ کو اٹھایا، جس کا جسم آپ کے وجود کے لیے ایک گہوارہ بنا، جس نے آپ کی پہلی سانس کے ساتھ اپنی ہزار تکلیفیں بھول کر مسکرایا آج وہی وجود آپ کے گھر کے کسی کونے میں خاموش بیٹھا ہے۔ خاموش اس لیے نہیں کہ اسے کچھ کہنا نہیں، بلکہ خاموش اس لیے کہ اسے ڈر ہے اپنی ہی اولاد سے ڈرکہ کہیں اس کی آواز کسی کو ناگوار نہ گزر جائے۔
ہم کس قدر بدنصیب دور میں جی رہے ہیں کہ جس وجود نے ہمیں بولنا سکھایا، آج ہم اسی پر زبان درازی کرتے ہیں۔ وہ ماں، جو ہمارے بچپن کی ایک آہ پر تڑپ اٹھتی تھی، آج ہماری تلخ کلامی اور کبھی کبھی گالیوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم باہر کی دنیا میں تہذیب کا لبادہ اوڑھ کر پھرتے ہیں، دفتروں میں شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اجنبیوں سے "جی جناب" اور "شکریہ" کہتے ہیں لیکن گھر کی چار دیواری میں اسی پھول جیسی ماں کے دل کو اپنے لفظوں کے کانٹوں سے زخمی کر دیتے ہیں۔ بیرونی دنیا کے لیے ہم مہذب ہیں، اور اپنی ماں کے لیے درندہ۔

 آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو

کیا کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ جب ایک جوان بیٹا یا بیٹی اپنی ماں کو جھڑکتے ہیں، تو اس کی آنکھوں میں آنے والا وہ پہلا آنسو کتنا وزنی ہوتا ہے؟ وہ آنسو صرف پانی کی ایک بوند نہیں ہے۔ وہ آنسو اس کی زندگی بھر کی ریاضت ہے، اس کی راتوں کی جاگ ہے، اس کی لوریوں کی تھکان ہے، اس کی دعاؤں کی شکست ہے۔
وہ ماں جو کبھی ہماری خاطر زمانے سے لڑ جاتی تھی، جو ہماری خاطر ہر تکلیف ہنس کر برداشت کرتی تھی، آج اپنی ہی اولاد کے سامنے اتنی بے بس ہو جاتی ہے کہ اپنا حق مانگنا تو دور، اپنے آنسو پونچھنے کی ہمت بھی نہیں جٹا پاتی۔ وہ روتی ہے مگر آہستہ، تاکہ کہیں یہ آواز اولاد کو بوجھ نہ لگے۔ وہ دعا کرتی ہے مگر دبی زبان سے، تاکہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ شکوہ کر رہی ہے۔
یہ کیسا ظلم ہے جو ہم اس پر ڈھا رہے ہیں وہ ظلم جو چھری سے نہیں کیا جاتا، بلکہ لفظوں سے کیا جاتا ہے، نظرانداز کرنے سے کیا جاتا ہے، اور خاموشی سے کیا جاتا ہے۔

بڑھاپا: دوسرا بچپن

لوگ بھول جاتے ہیں کہ بڑھاپا دوسرا بچپن ہوتا ہے۔ جیسے بچپن میں ہم نے ہزار بار ایک ہی بات پوچھی اور اس نے مسکرا کر جواب دیا"ماں، یہ کیا ہے؟" "ماں، وہ کیوں ہے؟" "ماں، پھر کب آؤ گی؟" اسی طرح آج جب وہ ضعیفی میں کوئی بات دہراتی ہے، یا کوئی پرانی یاد سناتی ہے، تو ہم اسے "پاگل پن" یا "چڑچڑاہٹ" کا نام دے کر خاموش کرا دیتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جب ہم بچپن میں روتے تھے تو وہ دوڑی چلی آتی تھی؟ آج جب وہ بڑھاپے میں روتی ہے تو ہم کمرے کا دروازہ بند کر لیتے ہیں۔ جب ہم بچپن میں کھانا نہ کھاتے تو وہ ہمارے پیچھے پیچھے نوالہ لے کر پھرتی تھی؟ آج جب وہ کھانے کا انتظار کرتی ہے تو ہم گھنٹوں بعد بے دلی سے کوئی چیز اس کے سامنے رکھ کر چل دیتے ہیں۔
اسے گالی دینا، اسے جھڑکنا، اسے جسمانی و ذہنی اذیت پہنچانا یہ صرف ایک انسان کو دکھ دینا نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے سب سے مقدس رشتے کا قتل ہے۔ اور جو رشتہ قتل کیا جائے، وہ قبر سے واپس نہیں آتا۔

مدرز ڈے کا ڈھونگ

ہر سال مئی کا مہینہ آتا ہے اور سوشل میڈیا پر ماؤں کی تصویروں کا سیلاب آ جاتا ہے۔ "میری جان، میری دنیا، میری ماں"۔ ہزار لائکس، سینکڑوں کمنٹس، ڈھیروں آہ و واہ۔ لیکن یہ "مدرز ڈے" کیا ہے؟ ایک دن کا ڈھونگ یا سال بھر کی بے حسی کا کفارہ؟
جو لوگ آج اسٹیٹس پر ماں کی تصویریں لگا کر واہ واہ سمیٹ رہے ہیں، ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنہوں نے صبح اٹھ کر ماں کے پیر چھوئے ہوں گے؟ کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اس سے پوچھا ہو کہ "ماں، آج آپ کا جی کیسا ہے؟" کتنے ایسے ہیں جن کی ماں آج بھی کسی کونے میں اس خوف سے خاموش بیٹھی ہے کہ کہیں اس کا بولنا اولاد کو ناگوار نہ گزر جائے؟
سچ یہ ہے کہ جس دن ہم اپنی ماں کے ساتھ ایک گھنٹہ بیٹھ کر اس کی باتیں سنیں بغیر موبائل کے، بغیر جلدی کے وہ دن ہر مدرز ڈے سے بڑا ہوگا۔ باقی تصویریں اور کیپشن تو اس سمندر پر تیرتے کاغذ کی ناؤ ہیں جو دکھنے میں خوبصورت ہے مگر بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔

 تین تلخ سوالات

آج میں کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اپنے آپ سے بھی، اور ہر اس شخص سے بھی جو یہ سطریں پڑھ رہا ہے:
کیا اس لیے اس نے تمہیں پالا تھا کہ تم جوان ہو کر اسے اپنی زبان کی کاٹ دکھاؤ؟ کیا وہ تھپکیاں اس لیے تھیں کہ تم اسے تنہائی کے حوالے کر دو؟ کیا وہ دعائیں اس لیے تھیں کہ تم اسے "بوجھ" سمجھنے لگو؟
اگر ان تینوں سوالوں کا جواب "نہیں" ہےاور یقیناً ہے تو پھر آج کا دن وہ دن ہو جب ہم واقعی کچھ بدلیں۔ نہ صرف اپنے اسٹیٹس پر، بلکہ اپنے رویے میں، اپنی آواز کی لے میں، اور اپنے گھر کی فضا میں۔

وقت کا پہیہ

سچ تو یہ ہے کہ جس گھر میں ماں کی آنکھوں میں آنسو ہوں، وہاں کی عبادتیں اور وہاں کی رونقیں سب بے معنی ہیں۔ جس گھر میں ماں کی آہ اٹھے، وہاں کی برکت اٹھ جاتی ہے یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ صدیوں کا مشاہدہ ہے۔
اور اگر ہم آج بھی نہ سنبھلے تو یاد رکھیں: وقت کا پہیہ گھومتا ہے۔ آج جو آنسو ہم اس کی آنکھوں میں بھر رہے ہیں، کل وہی آنسو ہماری اپنی تقدیر کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اولاد وہی کرتی ہے جو اس نے سیکھا ہو اور سیکھنا وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں ماں کے ساتھ برتاؤ ہو۔
ماں کو گالی دینا دراصل اپنی اوقات بتانا ہے۔ یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہم نے اس کی لوریوں، اس کی ریاضت، اور اس کی قربانیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ کہ ہم انسان کے خول میں احسان فراموش جانور ہیں۔
ماں ابھی زندہ ہے۔ ابھی موقع ہے۔ اس کے پاس بیٹھیں، اس کا ہاتھ تھامیں، اس سے معافی مانگیں چاہے زبان سے نہ کہہ سکیں، تو سلوک سے کہیں۔ اس کی آنکھوں میں دیکھیں ڈالیں اور سوچیں کہ اس نے آپ کو کتنی بار اسی طرح دیکھا ہوگا محبت سے، بے لوث محبت سے۔
وہ دن جب وہ نہیں رہے گی، اس دن سوشل میڈیا کا کوئی اسٹیٹس، کوئی تصویر، کوئی نوحہ کام نہ آئے گا۔ اس دن صرف وہی یادیں کام آئیں گی جو ہم نے اس کے ساتھ بنائی ہوں گی یا وہ پچھتاوے جو ہم نے اسے دکھ دے کر کمائے ہوں گے۔
انتخاب آپ کا ہے۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے