📢 واٹس ایپ چینل
✖ صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

ڈگری ہولڈرز کی فوج اور روزگار کا قحط

🌐 ترجمہ کریں:
⏱️ لوڈ ہو رہا ہے...


ڈگری ہولڈرز کی فوج اور روزگار کا قحط

خالد سیف اللہ موتیہاری 
ہر سال جون اور جولائی کے مہینوں میں ہندوستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے لاکھوں نوجوان اپنی اسناد تھامے باہر نکلتے ہیں۔ ان کے چہروں پر ایک خاص قسم کی چمک ہوتی ہے، آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں، اور دلوں میں یہ یقین کہ چار یا پانچ سال کی محنت اب رنگ لائے گی۔ گھر والوں نے قرضے لیے، کھیت گروی رکھے، زیور بیچے، اس یقین کے ساتھ کہ ڈگری مل گئی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر یہ چمک زیادہ دیر نہیں ٹھہرتی۔ چند ہفتوں میں ہی حقیقت کا وہ سرد پانی پڑتا ہے جو ہر خواب کو دھندلا کر دیتا ہے۔ نوکری نہیں ہے۔ نہ سرکاری، نہ نجی۔ اور اگر ہے بھی تو اس قدر کم تنخواہ پر کہ ڈگری کی قیمت وصول ہونے میں ایک عمر لگ جائے۔
یہ کوئی ایک نوجوان کی کہانی نہیں۔ یہ ایک پوری نسل کا المیہ ہے۔
ہندوستان آج دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کا حامل ملک ہے۔ ہم اسے فخر سے "ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ" کہتے ہیں، یعنی نوجوان آبادی کا وہ سرمایہ جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ مگر جب یہی نوجوان بے روزگار ہو، مایوس ہو، اور نظام سے بیزار ہو تو یہ ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ ایک خاموش بم میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کی ٹک ٹک ہم سنتے تو ہیں مگر اسے ناکارہ کرنے کی فکر نہیں کرتے۔ سرکاری اعداد و شمار کچھ بھی کہیں، زمینی حقیقت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ان پڑھوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پڑھا لکھا ہونا اب روزگار کی ضمانت نہیں رہا، بلکہ کئی معاملات میں یہ ایک اضافی بوجھ بن گیا ہے۔
اس المیے کی پہلی پرت تعلیمی نظام میں ہے۔ ہم نے گزشتہ تین عشروں میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی تعداد تو بے تحاشا بڑھائی، مگر تعلیم کا معیار بڑھانے کی زحمت نہیں کی۔ آج ملک میں
تیرہ سو سے زائد یونیورسٹیاں اور پینتالیس ہزار سے زائد کالج ہیں، مگر ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو طالب علم کو محض سند دینے کے بجائے اسے کچھ سکھاتے بھی ہیں؟ ہم نے ڈگریاں بانٹنے کا ایک وسیع کارخانہ کھڑا کر لیا ہے جہاں سے ہر سال لاکھوں "تعلیم یافتہ" نوجوان نکلتے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر کے پاس نہ کوئی ہنر ہوتا ہے، نہ کوئی قابلیت جو بازار میں کام آ سکے۔ بی اے، بی ایس سی، بی کام کی ڈگریاں لیے نوجوان جب روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں تو نجی شعبہ انہیں یہ کہہ کر لوٹا دیتا ہے کہ آپ کے پاس "اسکل" نہیں۔ اور سرکاری نوکریوں کے دروازے اس قدر تنگ ہیں کہ لاکھوں درخواست دہندگان میں سے چند سو ہی اندر جا پاتے ہیں۔
دوسری پرت سرکاری بھرتی کے اس فرسودہ نظام میں ہے جو برسوں سے نوجوانوں کو امید کی ڈور پر لٹکائے ہوئے ہے۔ بہار ہو یا اتر پردیش، راجستھان ہو یا مدھیہ پردیش، ہر ریاست میں ایک ہی کہانی ہے۔ اشتہار نکلتا ہے، نوجوان تیاری میں لگ جاتے ہیں، پھر امتحان ملتوی ہوتا ہے، پھر نتیجہ رکتا ہے، پھر عدالتی چیلنجز آتے ہیں، اور آخر میں جب بھرتی ہوتی بھی ہے تو اسامیاں آدھی رہ جاتی ہیں۔ اس پورے عرصے میں جو نوجوان ایک امتحان کی تیاری میں تین تین، چار چار سال لگا دیتا ہے، اس کی عمر کے بہترین سال ریت کی طرح مٹھی سے پھسل جاتے ہیں۔ اس کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا کوئی محاسبہ نہیں ہوتا۔ وہ گھر میں بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے، رشتے ٹوٹتے ہیں، خود اعتمادی ختم ہوتی ہے، اور بعض اوقات وہ مایوسی کی اس حد کو چھو لیتا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہوتا
تیسری پرت اس نجی شعبے میں ہے جسے ہم روزگار کا اصل انجن سمجھتے ہیں۔ بے شک نجی شعبے نے گزشتہ دو عشروں میں لاکھوں ملازمتیں پیدا کیں، مگر ان میں سے بیشتر کی نوعیت کیا ہے؟ کال سینٹر کی نوکری جہاں رات بھر جاگنا پڑتا ہے، ای کامرس کمپنی کی ڈلیوری جہاں کوئی سماجی تحفظ نہیں، یا وہ ٹھیکہ مزدوری جہاں آج نوکری ہے کل نہیں۔ یہ "گِگ اکانومی" کا وہ سراب ہے جسے روزگار کا نام دے کر اعداد و شمار میں شامل کر لیا جاتا ہے، مگر جو اصل میں محفوظ مستقبل کی ضمانت نہیں دیتا۔ ایک انجینئر کو کال سینٹر میں بیٹھنا پڑے، ایک ایم بی اے کو گاڑی چلانی پڑے، تو یہ روزگار نہیں، یہ قابلیت کا ضیاع ہے اور اس نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے۔
اس پوری تصویر میں جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ ہمارے سیاسی نظام کی وہ بے حسی ہے جو بڑے بڑے وعدوں اور چھوٹی چھوٹی خیرات میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے۔ ہر انتخاب سے پہلے کروڑوں نوکریوں کے وعدے ہوتے ہیں، ہر بجٹ میں روزگار کے لیے خصوصی پیکجوں کا اعلان ہوتا ہے، ہر افتتاحی تقریب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کتنے لوگوں کو کام ملے گا۔ مگر جب حساب ہوتا ہے تو اعداد کہیں نہیں ملتے۔ نوجوانوں کو وقفے وقفے سے مفت راشن، مفت بس سفر، اور سستی گیس کے سلنڈر دے کر خاموش رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا ان کی خودداری کی بھوک کو مفت اناج سے مٹایا جا سکتا ہے۔ مگر کوئی باوقار انسان دائمی خیرات نہیں چاہتا، وہ کام مانگتا ہے، مقام مانگتا ہے، اپنے ہاتھوں سے کمانے کا حق مانگتا ہے۔
اور جب یہ حق نہیں ملتا تو وہ سڑک پر نکلتا ہے۔ پٹنہ میں لاٹھیاں کھاتا ہے، جے پی گولنبر پر بیریکیڈوں سے ٹکراتا ہے، یا اگنی پتھ جیسی اسکیموں کے خلاف ریل کی پٹری پر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ تشدد نہیں، یہ ایک بے صبری کا اظہار ہے جو برسوں کی مایوسی سے جنم لیتا ہے۔ ہم اسے قانون و نظم کا مسئلہ سمجھ کر لاٹھی سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر لاٹھی سے مایوسی نہیں مٹتی، وہ کچھ دیر کے لیے دب ضرور جاتی ہے اور پھر زیادہ شدت سے ابھرتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ڈگری ہولڈر نوجوان کیوں سڑکوں پر ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے سڑک پر لانے کے کتنے سامان مہیا کیے۔ وہ تعلیمی نظام جس نے اسے ڈگری تو دی مگر ہنر نہیں دیا، وہ سرکاری ادارے جنہوں نے اسے امید تو دلائی مگر نوکری نہیں دی، وہ سیاست جس نے اسے ووٹ تو لیا مگر مستقبل نہیں دیا، اور وہ معاشرہ جو اسے "سرکاری نوکری" کے علاوہ کوئی راستہ قابل عزت نہیں سمجھتا۔ ان سب کا مجموعی نتیجہ وہ نوجوان ہے جو صبح اٹھتا ہے، اپنی ڈگری کو دیکھتا ہے، اور سوچتا ہے کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا اس کے کس کام کا ہے۔
حل موجود ہیں، مگر انہیں ڈھونڈنے کے لیے سیاسی ارادے کی ضرورت ہے جو آج کی سب سے نایاب شے ہے۔ تعلیمی نصاب کو بازار کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا، ہنر مند تعلیم کو سماجی وقار دینا ہوگا، بھرتی کے عمل کو شفاف اور بروقت بنانا ہوگا، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو پروان چڑھانے کی پالیسی بنانی ہوگی جو واقعی روزگار پیدا کر سکے۔ یہ کام آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔
مگر اس سب سے پہلے ایک کام فوری طور پر کرنا ہوگا۔ اس نوجوان کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ نظام اس کا دشمن نہیں، اس کا خادم ہے۔ کہ اس کی ڈگری بے معنی نہیں، کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی، کہ اس کا انتظار ختم ہوگا۔ جب تک یہ یقین نہیں ملتا، ڈگری ہولڈرز کی یہ فوج بے روزگاری کے میدان میں بھٹکتی رہے گی اور ہر چند برسوں بعد کسی پٹنہ، کسی جے پور، کسی حیدرآباد کی سڑکیں ان کی مایوسی کا منظر نامہ بنتی رہیں گی۔
ڈگری ہاتھ میں ہو اور روزگار نہ ہو تو یہ تعلیم نہیں، یہ ایک لمبا، تھکا دینے والا مذاق ہے۔ اور مذاق ہمیشہ ہنسی پر ختم نہیں ہوتا۔

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے