📢 واٹس ایپ چینل
✖ صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

سانحۂ کربلا: ایک جنگ نہیں، ایک تہذیبی انتباہ

🌐 ترجمہ کریں:
⏱️ لوڈ ہو رہا ہے...
خالد سیف اللہ موتیہاری 
تاریخ کے دامن میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو گزر کر بھی نہیں گزرتے، جو صدیوں کے فاصلے کو مٹا کر ہر نسل کے دروازے پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ سانحۂ کربلا انہی واقعات میں سے ہے، اور شاید سب سے بلند آہنگ واقعہ۔ اکسٹھ ہجری کی دس محرم کو میدانِ کربلا میں جو خون بہا، وہ اسلامی تاریخ کا سب سے دردناک اور سب سے روشن باب ہے، دردناک اس لیے کہ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے باوفا ساتھیوں نے پیاس اور تنہائی میں جان دی، اور روشن اس لیے کہ اسی شہادت نے انسانیت کو ضمیر کی معراج دکھائی۔ یہ شہادت کربلا کا مرکز ہے، اس کا دل ہے، اور اسی دل کی دھڑکن سے وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو آج بھی زندہ ہے: جب حق اور مصلحت آمنے سامنے آ جائیں تو انسان کس طرف کھڑا ہوتا ہے؟ کربلا کا اصل سوال یہ نہیں کہ چودہ سو سال پہلے کون کس طرف تھا، بلکہ یہ ہے کہ آج، اسی دوراہے پر، ہم خود کس طرف کھڑے ہیں۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی شخصیت کو کسی سیاسی یا سماجی کردار تک محدود نہ کیا جائے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے، ایسے گھرانے کے فرد جس کی تربیت خود نبوت کے سائے میں ہوئی۔ ان کی زندگی علم، عبادت، سخاوت اور تقویٰ کی ایک مکمل تصویر تھی۔ مدینہ کے معاصرین ان کی شبانہ عبادات، ان کے صدقات، اور ان کے اخلاقی وقار کی گواہی دیتے رہے ہیں۔ یہی وہ شخصیت تھی جس نے، جب اقتدار کی پیشکش اور بیعت کا مطالبہ سامنے آیا، اصول کو ترجیح دی۔ یہ فیصلہ کسی وقتی جذباتی ردِعمل کا نتیجہ نہ تھا بلکہ ایک ایسی شخصیت کا فطری اظہار تھا جو زندگی بھر حق اور باطل کے فرق پر مبنی تربیت سے گزری تھی۔

جب یزید بن معاویہ کی بیعت کا مطالبہ سامنے آیا، امام حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے مکہ کی جانب رخت سفر باندھا، تاکہ بیعت کے دباؤ سے بچا جا سکے اور حرمِ کعبہ کی پناہ میں رہا جائے۔ مکہ میں قیام کے دوران ہی کوفہ سے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ امام طبری نے اپنی تاریخ میں ان خطوط کی تفصیل بیان کی ہے جو کوفہ کے باشندوں کی جانب سے بھیجے گئے، جن میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ اسی بنیاد پر امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے عزیز مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہ زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔ ابن کثیر کے مطابق ابتدائی طور پر کوفہ میں ایک قابلِ ذکر تعداد نے مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی، اور یہ منظر امید افزا دکھائی دیتا تھا۔

مگر جلد ہی حالات نے پلٹا کھایا۔ گورنری کی تبدیلی اور سخت انتظامی دباؤ کے نتیجے میں وہی لوگ، جو چند روز قبل بیعت کر چکے تھے، خوف اور سیاسی حربوں کے زیرِ اثر منتشر ہو گئے۔ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ خود کو تنہا پا کر، اور حالات کے سخت ہونے کے باوجود، اپنے موقف پر قائم رہے، یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا گیا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کو، جو اسی دوران مکہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہو چکے تھے، راستے میں ہی کوفہ کے بدلتے حالات کی خبر ملی۔ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ اس مرحلے پر بھی امام حسین رضی اللہ عنہ نے واپسی یا کسی متبادل راستے پر غور کیا، مگر مخالف افواج اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا جو بعد میں کربلا کے نام سے تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔

"خاموش تماشائی" کا تصور اگر صرف ایک اخلاقی نعرے کی صورت میں پیش کیا جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ کوفہ کا واقعہ خود اس خاموشی کی ایک واضح تاریخی مثال ہے۔ ہزاروں افراد نے بیعت کی، مگر جب عملی امتحان کا وقت آیا تو وہی ہزاروں افراد اپنے گھروں میں محصور ہو گئے۔ یہ خاموشی یکطرفہ خوف کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اس میں سیاسی جوڑ توڑ، انتظامی دباؤ، اور انفرادی مفادات کا ایک پیچیدہ امتزاج شامل تھا۔گورنر کی جانب سے سختی، سیاسی دباؤ اور بعض بااثر افراد کو مراعات دینے کی حکمتِ عملی نے،عوامی جوش کو خوف میں تبدیل کر دیا۔ یہ کوفہ کی خاموشی محض بے حسی نہیں تھی بلکہ ایک منظم سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ بھی تھی، جس نے ایک پُرجوش حمایت کو، چند ہفتوں کے اندر، مکمل خاموشی میں بدل دیا۔ یہ مثال اس بات کی دلیل ہے کہ خاموشی کبھی اتفاقی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات اسے باقاعدہ طور پر پیدا کیا جاتا ہے۔اور یہی شاید کربلا کا سب سے تلخ سبق ہے: ظالم کو تلوار سے زیادہ، اس خاموشی کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے روکنے کے لیے کوئی ہاتھ نہ اٹھائے۔

کربلا کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا، وہ بھی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ کوفہ کے بہت سے افراد، جو اس موقع پر خاموش رہے تھے، بعد میں شدید ندامت کا شکار ہوئے۔ یہی ندامت "تحریکِ توابین" کی صورت میں ابھری، جس میں ان افراد نے، اپنی کوتاہی کا اعلانیہ اعتراف کرتے ہوئے، اپنے آپ کو ایک ایسی مسلح مہم کے لیے پیش کیا جس کا مقصد اپنی غفلت کا کفارہ ادا کرنا تھا۔ یہ تحریک عملی طور پر کامیاب نہ ہو سکی، اور اس میں شریک ہونے والے بہت سے افراد خود اس مہم میں جان کی قربانی دے گئے۔ مگر تاریخی اعتبار سے یہ تحریک ایک نہایت اہم نکتہ سامنے لاتی ہے: انسانی ضمیر، چاہے وہ کتنی ہی تاخیر سے بیدار ہو، بالآخر اپنے آپ کو جواب دہ ٹھہراتا ہے۔ تحریکِ توابین، اگرچہ عسکری اعتبار سے ایک کمزور اور تاخیر زدہ کوشش تھی، اخلاقی اعتبار سے یہ ثابت کرتی ہے کہ انسانی ضمیر مکمل طور پر بے حس نہیں ہوتا، وہ صرف وقت طلب کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: جو قیمت وقت پر ادا کی جا سکتی تھی، کیا اس کا کفارہ تاخیر سے کبھی پورا ادا ہو سکتا ہے؟

یہاں ایک نکتہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، اور وہ یہ کہ تاریخ کو سادہ سیاہ و سفید تقسیم میں پیش کرنا علمی دیانت کے منافی ہوگا۔ یہ تاثر درست نہیں کہ اس دور کا پورا معاشرہ بے حس تماشائی تھا۔ بہت سے لوگ سخت خوف اور جبر کے زیرِ اثر تھے، جن کے پاس عملی موقف اختیار کرنے کی گنجائش محدود تھی۔ کچھ افراد قید و بند یا انتظامی پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے، جس نے ان کی آواز کو دبا دیا۔ اور جیسا کہ تحریکِ توابین کی مثال سے واضح ہے، کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے بعد میں شدید ندامت کے ساتھ حق کی حمایت میں قدم اٹھایا، اگرچہ یہ اقدام وقت پر نہ ہو سکا۔ یہ تفصیلات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ انسانی کمزوری اور خوف کو مکمل طور پر اخلاقی ناکامی سے الگ کرنا، اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنا، خود ایک علمی ذمہ داری ہے۔

ظلم کبھی صرف اپنی طاقت کے بل پر نہیں پھیلتا۔ کوفہ کا واقعہ خود اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ظلم کو پھیلنے کے لیے ایک ساز گار معاشرتی فضا کی ضرورت ہوتی ہے، ایسی فضا جو خوف، مصلحت پسندی، یا انتظامی دباؤ سے تشکیل پاتی ہے۔ سوال یہ ہے: ظلم صرف ظالم کی وجہ سے مضبوط ہوتا ہے، یا معاشرتی خاموشی بھی اس میں برابر کی حصہ دار بنتی ہے؟ کوفہ کی مثال اس سوال کا واضح جواب فراہم کرتی ہے، کیونکہ اگر بیعت کرنے والے ہزاروں افراد اپنے موقف پر قائم رہتے تو ممکن ہے کہ واقعات کی صورتِ حال مختلف ہوتی۔ خاموشی، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہو، اپنے اثرات سے خالی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بالواسطہ طور پر ظالم کے اقدام کو ایک ایسا میدان فراہم کرتی ہے جس میں مؤثر مزاحمت کا فقدان ہوتا ہے۔

اخلاقی جرات کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر حال میں میدانِ عمل میں اتر کر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دے۔ یہ دراصل اس صلاحیت کا نام ہے جس میں انسان اپنے حالات کی حد تک، چاہے وہ کتنے ہی محدود کیوں نہ ہوں، حق کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم کہ اگر ہاتھ اور زبان سے برائی کو روکنا ممکن نہ ہو تو کم از کم دل سے اسے ناپسند کیا جائے، اس اصول کی بنیاد ہے۔ ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کو افضل ترین جہاد قرار دیا گیا، اور یہی تعلیم اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے اخلاقی جرات کو محض ایک پسندیدہ خوبی نہیں بلکہ ایمان کا لازمی جزو قرار دیا۔ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی مثال خود اس بات کی شہادت ہے کہ اخلاقی جرات کی قیمت کیا ہوتی ہے، اور یہ قیمت بعض اوقات مکمل تنہائی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے، جب اجتماعی حمایت اچانک پسپا ہو جائے۔

کربلا کا ایک نہایت اہم سبق یہ ہے کہ اکثریت اور حق ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ کوفہ کے ہزاروں افراد کی ابتدائی بیعت اور بعد کی مکمل خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ عددی برتری حقانیت کا معیار نہیں۔ اکثریت کا موقف بدل سکتا ہے، اکثریت خوف یا مفاد کے زیرِ اثر اپنا رخ تبدیل کر سکتی ہے، مگر حق اپنی نوعیت میں عددی حمایت سے ماورا ہوتا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کا موقف، عددی اعتبار سے انتہائی کمزور پوزیشن میں ہونے کے باوجود، تاریخ میں ایک ایسی مثال بن گیا جس کے سامنے اقتدار کی وقتی طاقت ہیچ ثابت ہوئی۔ حق کبھی شمار سے نہیں جانا جاتا، وہ صرف وزن سے جانا جاتا ہے، اور کربلا کا میزان آج بھی وہی وزن دکھاتا ہے۔

قرآن مجید نے عدل کے قیام کو ایمان کی بنیادی شرائط میں شامل کیا ہے۔ سورۂ نساء کی ایک سو پینتیسویں آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ انصاف پر قائم رہا جائے، چاہے یہ اپنی ذات یا اپنے قریبی رشتوں کے خلاف ہی ہو۔ سورۂ مائدہ کی آٹھویں آیت میں عدل کو تقویٰ کے قریب ترین عمل کے طور پر بیان کیا گیا۔ سورۂ آل عمران کی ایک سو چوتھی آیت ایک ایسی امت کے تصور کو پیش کرتی ہے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے، اور یوں خاموشی کو ایک اجتماعی ذمہ داری سے فرار قرار دیتی ہے۔ سورۂ عصر کی مختصر مگر گہری تعلیم یہ بتاتی ہے کہ نجات صرف انفرادی ایمان اور عمل سے مشروط نہیں بلکہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے سے بھی وابستہ ہے۔ یہ تمام آیات مل کر ایک واضح اصول قائم کرتی ہیں: خاموشی کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمیشہ کسی نہ کسی فریق کے حق میں جاتی ہے۔

کربلا کا مرکزی اور سب سے بڑا المیہ شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ ہے، وہ شہادت جس نے انسانیت کو ضمیر اور اقتدار کے درمیان فرق سکھایا۔ مگر اس عظیم سانحے کے ساتھ ایک اور المیہ بھی پنہاں ہے، جسے سمجھنا تاریخی دیانت کا تقاضا ہے: وہ فضا جو اس شہادت سے پہلے امت کے اندر تشکیل پا چکی تھی، ایک ایسی فضا جس میں سیاسی مصلحت اور دینی اصول کے درمیان کشمکش نے جنم لیا، اور جس نے ہزاروں افراد کو، جو حق کی پہچان رکھتے تھے، عملی میدان سے دور رکھ دیا۔ یہ دوسرا پہلو اس شہادت کی عظمت کو کم نہیں کرتا بلکہ اسے مزید گہرا کر دیتا ہے، کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سانحہ کسی خلا میں رونما نہیں ہوا تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی پیداوار تھا جو پہلے ہی اپنے اخلاقی فرائض سے غافل ہونا شروع ہو چکا تھا۔

موجودہ دور میں سماجی ناانصافی، اداروں کے اندر اختیار کا ناجائز استعمال، اور کمزور طبقات پر ہونے والے ظلم کی صورتیں، آج بھی وہی امتحان پیش کرتی ہیں جو کربلا نے پیش کیا تھا۔ بہت سے لوگ ظلم کو دیکھتے ہیں، اسے سمجھتے بھی ہیں، مگر سچ بولنے کی قیمت ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہر خاموش رہنے والا فرد بے حس نہیں ہوتا، بہت سے لوگ حقیقی مجبوریوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ مگر اس حقیقت کے باوجود، یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ آیا انسان نے اپنے حالات کی حد تک، جو بھی ممکن تھا، وہ کیا یا نہیں۔

تاریخ کے بڑے سانحات اچانک پیدا نہیں ہوتے۔ وہ معاشروں کی چھوٹی چھوٹی اخلاقی کمزوریوں سے، رفتہ رفتہ، آہستہ آہستہ جنم لیتے ہیں۔ کوفہ کی بیعت اور اس کے بعد کی خاموشی اچانک رونما نہیں ہوئی، بلکہ یہ خوف، مصلحت پسندی اور انفرادی مفادات کے ان چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا مجموعی نتیجہ تھی جو ہزاروں افراد نے، ایک ایک کر کے، اپنے گھروں کی چار دیواری میں کیے۔کربلا اس حقیقت کی ایک دائمی گواہ ہے: ظلم کی بنیاد اس دن نہیں رکھی جاتی جب تلوار اٹھتی ہے، بلکہ اس دن رکھی جاتی ہے جب ضمیر خاموش رہنے پر راضی ہو جاتا ہے۔

نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت تاریخ کے ماتھے پر وہ روشن مہر ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتی، اور یہی شہادت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ضمیر کی آواز خواہ کتنی ہی تنہا ہو، وہ صدیوں کے سینے میں زندہ رہتی ہے جبکہ اقتدار کی للکار وقت کی گرد میں دفن ہو جاتی ہے۔ کربلا کوئی بند باب نہیں جسے ماضی کی الماری میں رکھ کر فراموش کیا جا سکے۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ہر دور کے انسان کے سامنے، ہر معاشرے کی دہلیز پر، دوبارہ آ کھڑا ہوتا ہے، اور جب بھی کوئی انسان حق اور مصلحت کے دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے، یہ آئینہ اسے اپنی اصل صورت دکھا دیتا ہے۔
🏷️ ٹیگز:

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے