📢 واٹس ایپ چینل
✖ صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

ایک مسلمان کی گم شدہ پہچان

🌐 ترجمہ کریں:
⏱️ لوڈ ہو رہا ہے...


خالد سیف اللہ موتیہاری

کبھی کبھی آدمی کو اپنے بارے میں ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ ایسا سوال جس کا جواب دوسروں کو نہیں، خود اسے دینا ہو۔ اگر نام مسلمان ہے، نماز بھی پڑھتا ہے، رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے، لباس بھی مذہبی شناخت کی علامت لیے ہوئے ہے، مگر اس کے ساتھ رہنے والے لوگ اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ نہیں، تو پھر اس کی دینداری کا سب سے سچا تعارف کیا ہے؟ مسجد میں پڑھی ہوئی نماز، یا مسجد سے باہر نکلنے کے بعد اس کا برتاؤ؟

ہم دوسروں کے ہاتھوں اپنی شناخت پر ہونے والی ضرب کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔ کوئی اسلام کا مذاق اڑائے، ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے یا ہمارے عقیدے کو نشانہ بنائے تو دل دکھتا ہے، غصہ آتا ہے۔ یہ فطری بھی ہے اور ایمان کا تقاضا بھی۔ لیکن کبھی کبھی اسی حساسیت کے ساتھ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ہم دین کے بارے میں بہت کچھ بولتے ہیں، مگر کیا ہماری زندگی بھی دین کے بارے میں کچھ کہتی ہے؟

قرآن نے نیکی کو صرف ظاہری سمتوں اور چند عبادات کا نام نہیں دیا۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے نیکی کی جو تصویر کھینچی ہے، اس میں ایمان کے ساتھ رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کا خیال بھی ہے، نماز اور زکوٰۃ بھی ہے، وعدہ پورا کرنا بھی ہے اور مصیبت میں ثابت قدم رہنا بھی۔ (البقرہ: 177)

یہ آیت پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قرآن نے ایک مسلمان کو صرف مسجد میں نہیں، زندگی کے ہر مقام پر کھڑا کر دیا ہو۔ وہ نماز پڑھتا ہے تو بازار بھی جاتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے تو کسی کا حق بھی ادا کرتا ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے بندوں کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے۔ دین اس کے لیے زندگی سے الگ کوئی گوشہ نہیں رہتا۔

شاید ہماری ایک بڑی الجھن یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم نے دین اور دنیا کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ نماز دین ہے، روزہ دین ہے، حج دین ہے، مگر دکان پر کیا ہوا معاملہ جیسے دنیا کا مسئلہ ہے۔ ملازمت میں دیانت داری، گھر میں زبان کا لہجہ، پڑوسی کے ساتھ برتاؤ، لین دین میں انصاف، کسی کمزور کے ساتھ ہمارا رویہ، یہ سب گویا دین کے دائرے سے باہر کی چیزیں ہیں۔

حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس تقسیم کو قبول نہیں کرتی۔

مکہ والوں نے آپ ﷺ کو نبوت سے پہلے ہی صادق اور امین پایا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت میں جب ہرقل نے ابو سفیان سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سوال کیا تو ابو سفیان، جو اس وقت آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے، آپ کی سچائی کے بارے میں جھوٹ نہ بول سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آپ ﷺ لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتے تھے اور عہد شکنی نہیں کرتے تھے۔ (صحیح البخاری)

یہ واقعہ بہت کچھ کہتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتا تھا، وہ بھی آپ کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکا۔ آج ہم اپنے بارے میں اسلام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ ہماری سچائی کی گواہی دے سکتے ہیں؟

یہ سوال شاید کسی بڑے جلسے میں پوچھنے کے بجائے آدمی کو رات میں تنہائی کے وقت اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔

سورۃ الماعون کا لہجہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یتیم کو دھکے دینے والا، مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینے والا اور نماز میں غفلت و ریا کا شکار شخص قرآن کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے۔ (الماعون)

غور کیجیے، یہاں نماز کا ذکر موجود ہے، مگر نماز کے ساتھ دل اور کردار کی حالت بھی دیکھی جا رہی ہے۔ عبادت اگر انسان کو رحم، اخلاص اور حقوق العباد سے بے خبر چھوڑ دے تو کہیں نہ کہیں اس کے اندر کوئی خلا ضرور ہے۔

ہمارے آس پاس ایسے مناظر کم نہیں۔ مسجد میں پہلی صف میں کھڑا آدمی بازار میں ترازو کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ قرآن کی تلاوت بھی کرتا ہے اور کبھی کسی کا حق روکنے میں بھی تامل نہیں کرتا۔ رمضان میں صدقہ دینے کے لیے ہاتھ کھل جاتا ہے، مگر ملازم کی تنخواہ دیتے وقت وہی ہاتھ رک جاتا ہے۔ زبان پر درود بھی ہے اور غصے میں کسی کی عزت اچھالنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔

مسئلہ یہ نہیں کہ انسان فرشتہ کیوں نہیں بن گیا۔ انسان سے کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوری کو کمزوری ماننے کے بجائے کبھی کبھی دینداری کی ظاہری علامتوں کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (صحیح البخاری)

یہ حدیث پڑھ کر اپنے گھر کا دروازہ، اپنی دکان، اپنا موبائل اور اپنی زبان یاد آتی ہے۔ کتنے لوگ ہماری زبان سے محفوظ ہیں؟ کتنے لوگ ہمارے غصے سے؟ کتنے لوگ ہمارے فیصلوں سے؟

پڑوسی کے بارے میں بھی آپ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ شخص کامل ایمان والا نہیں جس کا پڑوسی اس کی ایذا سے محفوظ نہ ہو۔ (صحیح البخاری)

کبھی محلے میں ایک آدمی کی گاڑی دوسرے کے راستے میں کھڑی رہتی ہے، کبھی رات گئے شور کسی دوسرے کے آرام کو توڑتا ہے، کبھی معمولی بات پر گالی گلوچ شروع ہو جاتی ہے۔ شاید ہمیں یہ سب معمولی باتیں لگتی ہوں، مگر دین کی نظر میں انسان کا اپنے آس پاس رہنے والوں کے ساتھ برتاؤ بھی اس کی شخصیت کا حصہ ہے۔

گھر کا معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔

ایک گھر کا تصور کیجیے۔ دیوار پر قرآن کی آیت لگی ہے۔ مغرب کے بعد تلاوت کی آواز آ رہی ہے۔ گھر کے لوگ نماز کے لیے اٹھ رہے ہیں۔ اسی گھر کے ایک کمرے میں بوڑھی ماں خاموش بیٹھی ہے۔ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں، بس چاہتی ہے کہ بیٹا دو منٹ پاس بیٹھ جائے اور نرم لہجے میں پوچھ لے: "امی! طبیعت کیسی ہے؟"

شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں ہماری دینداری کا ایک ایسا امتحان ہوتا ہے جس کے لیے کسی منبر کی ضرورت نہیں۔

قرآن نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو توحید کے حکم کے فوراً بعد ذکر کیا ہے: "اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔" (بنی اسرائیل: 23)

ہم اکثر دین کو مسجد میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ کبھی کبھی دین گھر کے ایک بوڑھے چہرے کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔

اب سوشل میڈیا ہماری زندگی کا حصہ ہے، اس لیے ہماری ایک پہچان وہاں بھی بن گئی ہے۔ ہم دینی پوسٹیں لگاتے ہیں، احادیث شیئر کرتے ہیں، اصلاحی باتیں لکھتے ہیں۔ یہ سب اچھی باتیں ہیں۔ مگر اسی موبائل سے کسی کی عزت پر حملہ بھی ہو سکتا ہے، کسی کی تصویر کا مذاق بھی بنایا جا سکتا ہے، کسی پر بغیر تحقیق کے الزام بھی لگایا جا سکتا ہے۔

دین کی بات شیئر کرنا آسان ہے۔ دین کی بات اپنے رویے میں لانا مشکل۔

کسی کی غلطی دیکھ کر فوراً تبصرہ لکھ دینا آسان ہے، اپنے غصے کو روک لینا مشکل۔ کسی کو نصیحت کرنا آسان ہے، اپنی زبان کو قابو میں رکھنا مشکل۔ شاید اسی لیے انسان دوسروں کی اصلاح میں اتنی دلچسپی لیتا ہے اور اپنے نفس کے حساب میں اتنی جلدی تھک جاتا ہے۔

انصاف بھی اسی امتحان کا نام ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے، تمہارے والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔" (النساء: 135)

اپنے حق میں انصاف مانگنا آسان ہے۔ مشکل اس وقت ہوتی ہے جب حق ہمارے خلاف ہو۔ کسی اپنے کی غلطی کو غلط کہنا پڑے، کسی عزیز کے مقابلے میں دوسرے کا حق تسلیم کرنا پڑے، یا یہ ماننا پڑے کہ اس معاملے میں قصور ہمارا تھا۔

وہاں انسان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔

تو مسلمان کی پہچان آخر ہے کیا؟

شاید اس کا جواب کسی ایک لباس، کسی ایک نام یا کسی ایک ظاہری علامت میں نہیں ملے گا۔ وہ آدمی جو تنہائی میں بھی حرام سے بچتا ہے، جس کے سامنے کسی کمزور کا حق ہو تو دل نرم پڑ جاتا ہے، جسے غصہ آئے مگر زبان کو قابو میں رکھے، جس سے وعدہ کیا جائے تو اسے معمولی بات نہ سمجھے، اور جسے اختیار ملے تو دوسروں کو دبانے کے بجائے ان کے لیے آسانی پیدا کرے، اسلام کی پہچان اس کے کردار میں زیادہ صاف دکھائی دیتی ہے۔

ہمیں دوسروں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنے میں بڑی جلدی ہوتی ہے کہ کون کتنا دیندار ہے۔ مگر آدمی اگر ایک بار خود کو اسی ترازو پر رکھ لے تو شاید بہت سے فیصلے رک جائیں۔

کیا میں سچ بولتا ہوں جب سچ میرے خلاف ہو؟

کیا میں امانت واپس کرتا ہوں جب اسے روک لینا میرے لیے فائدہ مند ہو؟

کیا میں اپنے والدین سے اسی نرمی سے بات کرتا ہوں جس نرمی سے لوگوں کے سامنے بات کرتا ہوں؟

کیا میرے پڑوسی کو مجھ سے سکون ملتا ہے؟

کیا میرے ماتحت کو مجھ سے خوف نہیں، اعتماد ملتا ہے؟

یہ سوالات دوسروں کے لیے نہیں ہیں۔

اپنے لیے ہیں۔

اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں "مسلمان کی گم شدہ پہچان" کا مسئلہ کسی قوم، معاشرے یا زمانے سے نکل کر ایک انسان کے دل تک پہنچ جاتا ہے۔

اپنی اصلاح کا آغاز بھی یہیں سے ہوگا۔ دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنا ہوگا۔ اپنی زبان، اپنے معاملات، اپنے گھر، اپنی دکان، اپنے موبائل اور اپنی تنہائی کو دیکھنا ہوگا۔

ہماری پہچان کسی ایک دن میں نہیں کھوئی۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیوں میں کمزور ہوئی ہے۔ ایک جھوٹ، ایک خیانت، ایک حق تلفی، ایک سخت جملہ، ایک ناجائز فائدہ۔ اور شاید اس کی واپسی بھی انہی چھوٹی چھوٹی جگہوں سے ہوگی۔

جس دن ہمیں سچ بولنے کے لیے قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس دن امانت واپس کرنے کے لیے کوئی تقاضا نہیں کرنا پڑے گا، جس دن ہمارے والدین ہماری آواز سے نہیں گھبرائیں گے، جس دن ہمارا پڑوسی ہمیں دیکھ کر اپنے دروازے کی کنڈی مضبوط نہیں کرے گا، جس دن کمزور آدمی ہمارے سامنے اپنے حق کے لیے بے خوف کھڑا ہو سکے گا، شاید اسی دن ہمیں احساس ہوگا کہ جس پہچان کو ہم بہت دور تلاش کر رہے تھے، وہ کہیں گئی ہی نہیں تھی۔

وہ ہمارے اندر ہی تھی۔

بس کردار کی گرد میں چھپ گئی تھی۔ 

🏷️ ٹیگز:

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے