مکتوب الیہ: میرے پیارے اللہ جی!
میرے مالک!
آج ساتواں روزہ ہے اور میں ایک بہت بڑی محرومی کا دکھ لے کر آپ کے پاس آیا ہوں۔ مالک! میری آنکھیں خشک ہو گئی ہیں۔ میں سجدوں میں سر تو رکھتا ہوں، تلاوت بھی کرتا ہوں، دعا کے لیے ہاتھ بھی اٹھاتا ہوں، لیکن یہ آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کی رنگینیوں اور خواہشات کی تمازت نے میرے اندر کے تمام چشمے خشک کر دیے ہیں۔
میرے اللہ!
لوگ کہتے ہیں کہ آنسو کمزوری کی علامت ہیں، لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ کے حضور بہنے والا ایک آنسو جہنم کی آگ بجھا دیتا ہے۔ میں تو اس ایک قطرے کے لیے ترس گیا ہوں جو میری روح کی میت کو غسل دے سکے۔ میرے گناہوں نے میرے دل پر ایک سخت غلاف چڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ تو آپ کا خوف مجھے رلاتا ہے اور نہ آپ کی محبت مجھے تڑپاتی ہے۔ کیا میں واقعی اتنا سنگدل ہو گیا ہوں؟
میرے پیارے رب!
مجھے وہ رقت عطا کر دے جو پتھروں کو پگھلا دیتی ہے۔ مجھے وہ ندامت دے دے جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ میں اپنے (دنیوی) دکھوں پر تو گھنٹوں رو سکتا ہوں، اپنی ناکامیوں پر میری سسکیاں نہیں تھمتیں، لیکن کاش! ایک بار میں اپنی ان کوتاہیوں پر بھی رو سکوں جو مجھے آپ سے دور کر رہی ہیں۔
اے میرے مہربان اللہ!
آج کی افطار سے پہلے یا رات کے کسی پہر، میری آنکھوں کے بند توڑ دے۔ مجھے وہ آنسو دے دے جو میرے نامۂ اعمال کی سیاہی دھو ڈالیں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتے ہیں، اور میرا دل تو اپنی ہی بے حسی سے ٹوٹ چکا ہے۔ اس ٹوٹے ہوئے دل سے نکلی ہوئی پکار کو قبول کر لے۔
میرے مولا! میری آنکھوں کو بنجر نہ رہنے دے، انہیں اپنی یاد کے ساون سے سیراب کر دے۔
فقط۔
آپ کا وہ بندہ، جو ایک قطرۂ ندامت کا سوالی ہے۔
خالد سیف اللہ موتیہاری

تبصرے
یہ آٹھواں مکتوب دل کی گہرائیوں سے لکھا گیا ہے ۔ اس تحریر میں جو بستر اور مصلّے کے درمیان کی یہ جنگ دراصل نفس اور روح کی کشمکش ہے، اور آپ نے اسے جس سچائی سے بیان کیا ہے وہ ہر قاری کو اپنی راتوں کا محاسبہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ آپ نے جو رقم طراز کیا ہے کہ روزگار کے لئے میلوں کا سفر ہو جاتا ہے لیکن اللہ سے ملاقات کے وقت سستی غالب آجاتی ہے۔خاص طور پر یہ احساس کہ چند لمحوں کی نیند چھوڑ کر بندہ کائنات کے رب کے حضور کھڑا ہو جاتا ہے یہی اصل کامیابی ہے۔
آپ کے الفاظ کے ساتھ یہ آیت جیسے زندہ ہو اٹھتی ہے:
“تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا”
(ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں) — قرآن مجید 32:16
اللہ آپ کی اس راتوں والی جدوجہد کو شرفِ قبولیت دے، مصلّے کی محبت کو آپ کی عادت بنا دے اور آپ کو اُن لوگوں میں شامل کر لے جن کے لیے سجدہ نیند سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ آمین۔
ایک تبصرہ شائع کریں