خالد سیف اللہ موتیہاری
بچپن میں رکشہ وہ سواری تھی جو محلے کے سب سے بڑے خواب جیسی لگتی تھی۔ جب ابو رکشے پر بٹھاتے تھے تو لگتا تھا کوئی شاہی سواری نصیب ہوئی ہے۔ ہوا کانوں سے گزرتی، بال اڑتے، اور میں سمجھتا کہ یہی دنیا کی سب سے بڑی آزادی ہے۔ اس وقت نہیں جانتا تھا کہ ایک دن یہی رکشہ میری ''عزت'' لے اڑے گا۔
آج ایک عرصے کے بعد رکشے پر بیٹھنا پڑا۔ کوئی خاص مجبوری نہ تھی بس حالات نے کہا، چلو بھائی، آج پیدل نہ سہی، رکشے سہی۔ میں نے سوچا کیا بات ہے، پرانی یادیں بھی تازہ ہوں گی۔ یہ نہیں سوچا کہ پرانی یادوں کے ساتھ کچھ نئی شرمندگیاں بھی تازہ ہوں گی۔
رکشے والے نے آواز لگائی، میں بیٹھ گیا۔ جیسے ہی بیٹھا، احساس ہوا کہ جسم اب وہ نہیں رہا جو بچپن میں تھا۔ اس وقت ہلکا پھلکا بدن تھا، رکشے کی سیٹ وسیع لگتی تھی، ہوا سے دوستی تھی۔ اب ذرا سی ہوا آئی تو پہلے چادر سنبھالی، پھر ٹوپی، پھر سوچا کہ کاش کوئی جاننے والا نہ دیکھے۔ مگر قدرت کو کہاں منظور تھا۔
بازار کے بیچ سے رکشہ گزر رہا تھا اور اچانک ایک جاننے والے کی نظر پڑ گئی۔ وہ فٹ پاتھ پر کھڑے تھے آرام سے، سکون سے، جیسے وہ تماشا دیکھنے ہی آئے ہوں۔ انھوں نے مجھے دیکھا، میں نے انھیں دیکھا۔ ایک لمحے کی خاموشی تھی پھر ان کے ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ آئی جو لوگ اس وقت مسکراتے ہیں جب کسی کی ''حیثیت'' سمجھ میں آ جائے۔
میں نے فوراً نظر پھیر لی جیسے میں نے انھیں دیکھا ہی نہیں، جیسے میں کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں، جیسے میرے لیے رکشے پر بیٹھنا اور فلسفہ سوچنا ایک ہی کام ہے۔ لیکن جاننے والے کا دل نہ مانا انھوں نے ہاتھ ہلایا، پھر ہنسے، پھر اور ہنسے۔ میں نے سوچا یا اللہ! کیا رکشے میں بیٹھنا اب ہنسنے کا مقام ہے؟
مگر پھر سوچا ہنسیں، بھلے ہنسیں۔ رکشہ وہ سواری ہے جو آپ کو منزل تک پہنچاتی ہے بلاوجہ کی شان و شوکت کے بغیر، بناوٹ کے بغیر، اور بے فضول اکڑ کے بغیر۔ گاڑی میں بیٹھنے والا شہر دیکھتا نہیں، بس شیشے کے پار ایک دھندلی دنیا سے گزر جاتا ہے۔ رکشے میں بیٹھنے والا شہر کو محسوس کرتا ہے اس کی خوشبو، اس کا شور، اس کی گرمی، سب کچھ۔
راستے میں ایک اور جاننے والے ملے۔ اس بار میں نے پہلے دیکھ لیا اور نظریں ملانے سے پہلے ہی دوسری طرف منہ کر لیا۔ رکشے والے نے شاید بھانپ لیا بولے: ''کیا ہوا بھائی؟'' میں نے کہا: ''کچھ نہیں، بس سوچ رہا ہوں۔'' انھوں نے سر ہلایا جیسے کہہ رہے ہوں یہاں سب یہی کہتے ہیں۔
بچپن میں رکشہ اس لیے اچھا لگتا تھا کہ اس پر نظر ڈالنے والا کوئی نہ تھا، یا شاید تھا تو ہم نے پروا نہیں کی تھی۔ اب عجیب بات یہ ہے کہ سواری وہی ہے، ہوا وہی ہے، گلی وہی ہےمگر دیکھنے والوں کی نظر بدل گئی ہے، یا شاید ہم خود بدل گئے ہیں جو اب ہر نظر میں معنی ڈھونڈتے ہیں۔
جب منزل آئی اور میں اترا تو رکشے والے نے جو کرایہ مانگا وہ بچپن کے زمانے سے کئی گنا زیادہ تھا۔ دیا اور آگے بڑھ گیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو رکشہ ایک نئی سواری لے کر چل پڑا تھا بے نیازی سے، جیسے میری شرمندگی سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔
اور سچ بھی یہی ہےرکشہ کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔ شرمندگی تو ہم لوگوں کا مسئلہ ہے جو سوچتے ہیں کہ سواری سے شخصیت بنتی ہے۔ رکشہ تو بس چلتا ہے اور جو بھی بیٹھے، اسے منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ بغیر پوچھے کہ تم کون ہو، کیا ہو، اور ان جاننے والوں کو تم سے کیوں ہنسی آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں