📢 واٹس ایپ چینل
صفحہ اول 🏠

خالد سیف اللہ موتیہاری

صفحہ اول حالات حاضرہ مکتوب بندگی افکار و نظریات اصلاح معاشرہ گردش ایام مقالہ
→ واپس جائیں

ٹیپو سلطان اور مذہب: رواداری اور حب الوطنی کی ایک مستند تاریخ

🌐 ترجمہ کریں:
لوڈ ہو رہا ہے...

 

ڈاکٹر تبسم آراء
جرأت و شجاعت، عزم و استقلال، سخت کوشش اور جذبۂ جہاد سے سرشار شیرِ میسور، ٹیپو سلطان شہید، تاریخِ اسلام کا ایک لازوال کردار ہیں، جن پر عالمِ اسلام تا قیامت نازاں رہے گا۔ ٹیپو سلطان برصغیر کے وہ عظیم مجاہدِ آزادی اور شہیدِ وطن تھے جنہوں نے آزادی کی شمع روشن کی اور وطن و دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان نچھاور کر دی۔
ٹیپو سلطان 20 نومبر 1750ء کو بنگلور کے قریب ایک قصبہ دیونہلی (Devanahalli) میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام جنوبی ہند کے ایک معروف بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا۔
حیدر علی کے ہونہار، باہمت اور حوصلہ مند فرزند، ٹیپو سلطان نے 1782ء میں ریاستِ میسور کا نظم و نسق سنبھالا۔ وہ اوائلِ عمری ہی سے جہاندیدہ، باصلاحیت اور جنگی مہارتوں کے حامل تھے۔ ساتھ ہی وہ نیک، سچے اور مہربان طبیعت کے حکمران بھی تھے۔
میسور کی تقریباً 90 فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی، مگر بعض انگریز مورخین نے بے بنیاد الزامات عائد کیے کہ ٹیپو سلطان نے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ریاستی انتظامیہ میں کئی ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ یہاں تک کہ وزیر اور سفارتی مناصب پر بھی ہندو افراد مقرر تھے۔
ٹیپو سلطان نے نہ صرف مندروں کو مالی امداد دی بلکہ کئی مندروں کی حفاظت بھی کی۔ تعلقہ ڈنڈیگل پر حملے کے دوران سلطان نے عقبی جانب سے گولہ باری کروائی تاکہ راجا کا مندر، جو قلعے کے اگلے حصے میں واقع تھا، نقصان سے محفوظ رہے۔ اسی طرح کانچی ورم کے مندر کو انہوں نے دس ہزار روپے بطور نذرانہ پیش کیے، جس کی بنیاد 1780ء میں سلطان حیدر علی نے رکھی تھی۔
ٹیپو سلطان نے عبادت گاہوں کے معاملے میں جس مساوات کا مظاہرہ کیا، اسی طرح انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مذہب، ملت، رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر اعلیٰ رواداری کی مثال قائم کی۔
آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل، ڈاکٹر راج گوپال اچاریہ (C. Rajagopalachari) نے بھی ٹیپو سلطان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ افسوس اہلِ ہند نے آزادی کے اس جانباز سپاہی کو فراموش کر کے ان کے ساتھ بڑی ناانصافی کی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانانِ ہند اپنے سلاطین اور حکمرانوں کے کارناموں، ان کی عدل و انصاف پروری اور اعلیٰ کردار سے واقف ہوں، اور نئی نسل کو ٹیپو سلطان کی بہادری، شجاعت، انصاف پسندی، مذہبی رواداری اور حب الوطنی کی مستند تاریخ سے روشناس کرائیں تاکہ وہ گمراہی کا شکار نہ ہو۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ٹیپو سلطان کے بارے میں انگریز مورخین نے من گھڑت تاریخ لکھ کر انہیں متعصب اور ہندو دشمن حکمران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جو کہ حقیقت کے منافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🏷️ ٹیگز:

📢 اس تحریر کو شیئر کریں

📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

📝 اپنی رائے واٹس ایپ پر بھیجیں

📱 واٹس ایپ پر رائے دیں

تبصرے