خالد سیف اللہ موتیہاری
وہ لفظ جو زبان پر آتے ہی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
میں نے بچپن میں ایک بار سوچا تھا کہ ماں کیا ہے؟ تب عقل نے کہا تھا وہ عورت جو کھانا پکاتی ہے، کپڑے دھوتی ہے، رات کو جگتی ہے۔ مگر آج جب عمر کے اس موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سے پیچھے مڑ کر دیکھنا ممکن ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے اس پوری زندگی میں ماں کو سمجھا ہی نہیں بس محسوس کرتا رہا، جیسے ہوا کو محسوس کیا جاتا ہے، دیکھے بغیر۔
ماں ایک رشتہ نہیں ایک کائنات ہے۔
اور ہر کائنات کی طرح، اس کے بھی بہت سے راز ہیں جو شاید ہم کبھی پوری طرح جان نہ سکیں۔
میری ماں کے ہاتھوں میں ایک عجیب حرارت ہے۔ جب وہ بخار میں ماتھے پر ہاتھ رکھتی ہے تو بخار کا احساس تو رہتا ہے، مگر خوف جاتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر دوائیں دیتا ہے، ماں تسلی دیتی ہے اور اکثر تسلی، دوا سے پہلے کام کر جاتی ہے۔ میڈیکل سائنس اس کی توجیہ نہیں کر سکتی، مگر ہر بیمار بچہ اسے جانتا ہے۔
دنیا میں سب رشتے کسی نہ کسی غرض سے بندھے ہیں۔
دوست خوشی میں ملتے ہیں، غم میں چھٹ جاتے ہیں۔ محبوب حُسن کو چاہتا ہے، جو ڈھلتا رہتا ہے۔ استاد علم دیتا ہے، مگر اپنی میراث کے لیے۔ یہاں تک کہ اولاد بھی سچ بولیں تو ماں باپ سے محبت میں ایک لاشعوری احساسِ قرض ہوتا ہے۔
مگر ماں؟
ماں بغیر حساب کے دیتی ہے۔ وہ نہیں سوچتی کہ بیٹا بڑا ہو کر لوٹائے گا یا نہیں۔ وہ نہیں دیکھتی کہ یہ بچہ قابل ہے یا نہیں، خوب صورت ہے یا نہیں، کامیاب ہے یا نہیں۔ وہ تو بس اپنا خون پگھلا کر محبت کی شمع جلاتی رہتی ہے اور اس شمع میں یہ خاصیت ہے کہ جل کر بھی بجھتی نہیں۔
ماں کی آواز دنیا کی پہلی موسیقی ہے۔
بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، تب بھی اس کی آواز سنتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ وہ آواز اس کے لاشعور میں اتر جاتی ہے اور عمر بھر کہیں نہ کہیں گونجتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے ماں کی لوری پر آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے تکلیف میں زبان پر بے ساختہ "ماں" آ جاتا ہے کوئی سوچتا نہیں، کوئی ارادہ نہیں کرتا، بس نکل جاتا ہے۔ جیسے دل کی اپنی زبان ہو، اور اس زبان کا پہلا لفظ ماں ہو۔
مگر ماں کی ایک اور تصویر بھی ہے جسے ہم کم دیکھتے ہیں۔
وہ تصویر جو رات کے اندھیرے میں نظر آتی ہے جب گھر سو جاتا ہے اور ماں اکیلی جاگتی ہے۔ اپنے لیے نہیں اپنی فکروں کے لیے جو سارے گھر کی فکریں ہیں۔ بیٹے کی نوکری، بیٹی کی صحت، باپ کا مزاج، گھر کا خرچ سب کچھ اس ایک سینے میں بند ہے جسے کوئی پوچھنے نہیں آتا۔ ماں کی آنکھوں میں جو حلقے ہیں وہ راتوں کے قرض ہیں جو کبھی ادا نہیں ہوتے۔
ہم خوش ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: "ماں، آج بڑا مزا آیا!"
ہم اداس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: "ماں، کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔"
اور ماں دونوں صورتوں میں ہماری ہو جاتی ہے ہماری خوشی میں اور ہمارے غم میں اپنے آپ کو بھلا کر۔
سقراط نے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔
میں کہتا ہوں میں جانتا ہوں کہ میں نے ماں کو کبھی پوری طرح نہیں سمجھا۔
ہم اسے روزمرہ سمجھتے ہیں، جبکہ وہ روزمرہ نہیں وہ تو وہ سانس ہے جو ہم اتنی فطری طور پر لیتے ہیں کہ اس کی قدر تب جانتے ہیں جب سینہ تنگ ہو جائے۔ کتنا اچھا ہو کہ ہم یہ قدر اُس وقت جانیں جب وہ ہمارے پاس موجود ہے نہ کہ بعد میں، جب پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے۔
آج جب کوئی بچہ ماں سے لڑتا ہے اور لڑتا ضرور ہے کیونکہ جس سے محبت گہری ہو اسی سے لڑائی بھی گہری ہوتی ہے تو میں سوچتا ہوں: یہ لڑائی بھی ایک دن یاد آئے گی، اور یاد کر کے آنسو آئیں گے۔ اس لیے نہیں کہ لڑائی غلط تھی، بلکہ اس لیے کہ جس سے لڑے وہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہے گی۔
ماں جب ناراض ہو تو بھی محبت کرتی ہےاس لیے نہیں کہ اسے مجبوری ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کی فطرت ہی محبت ہے۔
ماں وہ واحد رشتہ ہے جو ہمیں ملتا ہے، ہم چُنتے نہیں۔
اور شاید یہی اس کی خوبی ہے۔
اگر چُننا ہوتا تو شاید ہم کوئی اور ڈھونڈ لیتے زیادہ آزادی دینے والی، کم ٹوکنے والی، کم پریشان ہونے والی۔ مگر اللہ نے یہ رشتہ ہمارے اختیار میں نہیں دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہم اس کی قدر نہیں کر سکتے ہم وہی چاہتے ہیں جو آسان ہو، اور ماں آسان نہیں ماں ضروری ہے۔
اور ضروری چیزیں کبھی آسان نہیں ہوتیں۔
آخر میں بس اتنا
کہیں پڑھا تھا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔
میں نے بہت سوچا اس بات پر۔ پھر سمجھ آیا کہ شاید اس لیے نہیں کہ ماں بڑی عبادت گزار ہے یا بڑی عالمہ ہے بلکہ اس لیے کہ جو انسان اپنی ہر خواہش، اپنا ہر آرام، اپنی ہر نیند دوسروں پر قربان کر دے، اس کے قدموں تلے جنت نہ ہو تو کہاں ہو؟
ماں جنت کا راستہ ہے اور ہم اکثر اس راستے پر چلتے ہوئے اسے روندتے رہتے ہیں۔
خدا کرے کہ ہم میں سے ہر وہ شخص جس کی ماں ابھی ہے آج اُٹھے، اُس کے پاس جائے، اور بغیر کسی وجہ کے بس کہے: "ماں، تم ہو تو سب ہے۔"
اللہ ہماری ماؤں کو صحت، خوشی اور لمبی عمر عطا فرمائے آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں